خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 593

خطبات محمود ۵۹۳ سال ۱۹۳۵ء بھی اکارت جائیں گی۔اور اس پر بھی دشمن کے ساتھ جو اپنی طاقت کے گھمنڈ میں چاہتا ہے کہ سچائی کو مٹا دے، ہماری جنگ ختم نہ ہوگی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کا دشمن ہے وہ مسلمان یا ہندو یا سکھ یا عیسائی یا کسی اور غیر مسلم قوم کے لئے یہ طریق اختیار نہیں کرتا کیونکہ وہ مہربان اور شفیق ہے لیکن جو عناد کی وجہ سے فساد پیدا کرتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ یہ طریق اختیار کرتا ہے۔جو قوم اس لئے اُٹھتی ہے کہ سچائی کو مٹا دے، اس کے وجود کو خدا کی غیرت برداشت نہیں کر سکتی۔اس لئے میں جماعت کو بتانا چاہتا ہوں کہ بسا اوقات بظاہر خاموشی نظر آتی ہے اور خیال کر لیا جاتا ہے کہ کام ختم ہو گیا مگر ختم کس طرح ہو سکتا ہے جب خدا خود کھڑا ہے اور فرماتا ہے کہ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَّ يَحْى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ جب ایک قوم نے قسم کھائی کہ احمدیت کو مٹادے گی تو اب یہ جنگ اسی صورت میں ختم ہو سکتی ہے کہ یا تو وہ اپنے اس دعوئی کو واپس لے اور اعلان کر دے کہ ہم سے غلطی ہوئی یا پھر ان دونوں پارٹیوں میں سے ایک کی موت اسے ختم کر سکتی ہے۔مؤمن میدان میں کبھی پیٹھ نہیں دکھایا کرتا بلکہ وہ یہی کہتا ہے کہ جو ہو سو ہو میں زندہ رہا تب بھی اور اگر مراتب بھی فائدہ میں رہوں گا۔اللہ تعالیٰ کا یہ حملہ عام مسلمانوں یا ہندو یا سکھ عیسائی یا دوسرے غیر مسلم شرفاء کے لئے نہیں۔مدینہ کے پاس کئی قومیں تھیں جو رسول کریم ﷺ کو ناحق پر سمجھتی تھیں۔مگر ان کے لئے کوئی عذاب نہیں آیا۔عذاب ہمیشہ اُن ہی پر آتا ہے جو شرارت سے بلا وجہ اور پہلا قصور کسی قوم کو تباہ کرنے کے لئے اُٹھتے ہیں مثلاً یہی جنگ ہے جو احرار نے ہمارے خلاف شروع کر رکھی ہے۔کوئی بتائے تو سہی کہ ہم نے مسلمانوں کا کیا نقصان کیا ؟ ہم نے ہر میدان میں اپنے مفاد کو پس پشت ڈال کر مسلمانوں کی تائید کی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ترکوں کی شکست پر ہم نے پانچ ہزار روپیہ حکومت کو دیا مگر یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ کس لئے دیا ؟ الزام لگانے والوں کے بھائی بندوں اور ہم خیالوں کے یتیم بچوں کی تعلیم کے لئے ہم نے یہ روپیہ دیا تھا یہ لوگ تین لاکھ کی تعداد میں بھرتی ہو کر گئے اور جا کر ترکوں کے سینوں کو چھید دیا انہیں شکست دی اور اس لڑائی میں ان میں سے جو مارے گئے ، ان کے بچوں کی تعلیم کے فنڈ میں ہم نے پانچ ہزار روپیہ دیا۔لیکن ان لوگوں کو یہ بات تو بھول جاتی ہے کہ ان کے تین لاکھ سپاہی ترکوں سے لڑائی کے لئے گئے مگر یہ یاد رہتی ہے کہ ہم نے پانچ ہزار روپیہ دیا تھا۔کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ تین لاکھ مسلمان جنہوں نے جا کر ترکوں کو شکست دی یا اُن کے بھائی بندا گر تو وہ احمدی تھے تو پھر اُن