خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 594

خطبات محمود ۵۹۴ سال ۱۹۳۵ء کا یہ کہنا جھوٹ ہے کہ احمدی ۵۶ ہزار ہیں۔اس صورت میں انہیں احمدیوں کی تعدا دستر لاکھ اور ایک کروڑ کے درمیان ماننی پڑے گی۔اور اگر ان میں سے تھے تو یہ کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ خود جا کر تو ترکوں کو ما را تقبل کیا ، ان کے علاقے فتح کئے اور اب بے شرم اور بے حیا بن کر کہتے ہیں کہ احمدیوں نے سب کچھ کیا حالانکہ ہم نے جو کیا وہ صرف یہ ہے کہ جو لوگ مارے گئے یا کو لے لنگڑے ہو کر نا کا رہ ہو گئے اُن کی امداد اور اُن کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے فنڈ میں ۵ ہزار روپیہ دیا۔اگر ان کے نزدیک یہ اتنا ہی بُر افعل ہے تو وہ فنڈ آج تک قائم ہے۔یہ فتویٰ صادر کر دیں کہ اس سے امداد لینا حرام ہے۔احراری اس قسم کا فتویٰ صادر کر کے مسلمانوں کو اس کے استعمال سے روک دیں۔پھر ہمارا پیدا کیا ہوا ضرر خود بخود ڈور ہو جائے گا۔اس کے علاوہ اور بھی ہر موقع پر ہم نے مسلمانوں کی تائید کی ہے۔نہرور پورٹ کے موقع پر کانگرس اور بائیکاٹ کی تحریکات میں ہمیشہ ان کی مدد کی ہے پھر خلافت موومنٹ کے موقع پر میں نے کہا کہ میں مدد کے لئے تیار ہوں۔اُس موقع پر میں نے ایک رسالہ لکھا جو چھپا ہوا موجود ہے اگر اُس وقت میری مدد حاصل کر لی جاتی تو اتنے فسادات ملک میں نہ ہوتے اور ترکی حکومت بھی زیادہ مضبوط ہوتی۔میں نے تجویز پیش کی تھی کہ یہ نہ کہا جائے کہ تمام مسلمان سلطان کو خلیفہ المسلمین سمجھتے ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ اکثر مسلمان خلیفہ سمجھتے ہیں اور باقی بحیثیت ایک مسلمان فرمانروا اس سے گہری ہمدردی رکھتے ہیں لیکن اس تجویز کو منظور نہ کیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ اگر ہم یہ کہیں کہ ایک حصہ خلیفہ نہیں سمجھتا تو اس سے تحریک کو نقصان ہو گا حالانکہ میں نے کہا تھا کہ اگر اس طریق پر کام کیا جائے تو میں ترکوں کے حق میں یورپ اور امریکہ میں یہ پروپیگنڈا کرنے کے لئے مبلغ بھی دوں گا کہ مسلمانوں کی قربانیوں کا اس رنگ میں نتیجہ نہیں نکلنا چاہئے اور حکومت برطانیہ کا فرض ہے کہ اسلامی حکومت کو پاش پاش نہ ہونے دے میری اس تجویز کو ٹھکرا دیا گیا مگر آج کیا ہے۔کہاں ہے وہ خلیفہ جس کے متعلق یہ سننا بھی پسند نہیں کیا جاتا تھا کہ بعض مسلمان اسے خلیفہ نہیں سمجھتے۔اگر میری تجویز کے مطابق اس سوال کو اٹھایا جاتا تو ہزاروں روپیہ اور بہت سے مبلغ کام کرنے کے لئے مل سکتے تھے اور مجھے یقین ہے کہ اگر اُس وقت اس رنگ میں پرو پیگنڈا کیا جاتا تو حکومت برطانیہ ترکی کی حمایت پر مجبور ہو جاتی۔پس کونسا موقع ہے جب ہم نے مسلمانوں کے لئے قربانی نہیں کی۔ہمارے دشمنوں کو اگر یہ پانچ ہزار یاد ہے تو وہ خدمات کیوں یاد نہیں جو ہم کرنے کو تیار تھے مگر مسلمان لیڈروں نے اپنی