خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 592

خطبات محمود ۵۹۲ سال ۱۹۳۵ء ہیں لیکن خالص مسلمانوں نے کہا ہم موسٹی کے صحابہ والا جواب نہیں دیں گے۔بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے لڑیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم بھی چاہتے تھے کہ اس میں شامل ہوں اور اگر تمہارے پاس ساز وسامان ہوتا اور تعداد بھی کافی ہوتی تو پھر تو ساری لڑائی تم ہی کر دیتے ہم کیا کرتے۔اس لئے ہم نے ایسے سامان کئے کہ تمہیں بے سامان ہی لڑا دیا۔اگر تم سے پوچھا جاتا تو تم یہی کہتے کہ ابھی موقع نہیں۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَكِنْ لِيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ وہ بات کرے جس کے کرنے کا وہ فیصلہ کر چکا تھا یعنی اس دن کو یوم الفرقان بنائے کیوں؟ فرمایا۔لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَّ يَحْىٰ مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ۔تا ہلاک ہونے والا بھی ہمارے نشان سے ہلاک ہو اور زندہ رہنے والا بھی ہمارے نشان سے زندہ ہو۔ہمارا نشان جس کے خلاف پڑے وہ مرے اور جس کی تائید میں ہو وہ زندہ ہو اس لئے ایسے وقت میں یہ لڑائی کرا دی کہ فتح بندوں کی طرف منسوب ہو ہی نہ سکتی تھی۔یہی آیت ہے جسے مد نظر رکھتے ہوئے میں نے آج اس رکوع کی تلاوت کی ہے۔آج بھی بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ کیا لڑائی شروع ہو گئی ہے۔کئی لوگ ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ یہ موقع مناسب نہیں آپ ہی خاموش ہو جائیں۔کئی افسر بھی ہمارے دوست ہیں ہمیں یہ مشورہ دیتے ہیں کہ آپ لوگ ذرا خاموش ہو جائیں مگر سوال تو یہ ہے کہ اب ہمیں خاموش ہو نے کون دیتا ہے ہم نے تو یہ لڑائی شروع ہی نہیں کی۔احرار نے کی یا حکومت نے کی مگر جس نے بھی کی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت کی اور وہ مشیت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہمیں ایسے وقت میں دشمن سے لڑا دے جب ہم بالکل بے سروسامان اور کمزور ہیں۔بظاہر یہ دشمن کا حملہ ہے مگر در حقیقت اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اسے اُکسایا ہے جس طرح کہ اس نے مکہ کے لوگوں کو اُکسایا تھا کہ مسلمانوں پر حملہ کریں اور اس طرح وہ دکھانا چاہتا ہے کہ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَّ يَحْىٰ مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ یعنی جو ہلاک ہو وہ خدا کے نشانوں کو دیکھ کر ہوا اور جو زندہ رہے وہ بھی خدا کے نشانوں سے رہے تو جس لڑائی کو خدا شروع کرے اُسے ہم کس طرح بند کر سکتے ہیں۔پس خوب اچھی طرح یاد رکھو کہ اسے ختم کرنے کے لئے جو بھی چال چلی جائے گی وہ اُلٹی پڑے گی اور یہ لڑائی ختم نہ ہو سکے گی کیونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اب دوٹوک فیصلہ ہو جائے۔اس لئے اسے ختم کرنے کے لئے ہماری اپنی اور تمام خیر خواہوں کی کوششیں