خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 583

خطبات محمود ۵۸۳ سال ۱۹۳۵ء یا ہزار افراد بھی شامل ہوں گے۔اگر مباہلہ میں لوگوں کو شریک کرنے کے لئے کوئی دقت پیش آئے تو انہیں آ سکتی ہے جن کی نمائندگی کا دعویٰ بے حقیقت ہے میرے پاس تو جماعتوں اور افراد کی تاریں آ رہی ہیں کہ ہمیں اس مباہلہ میں ضرور شریک کیا جائے۔پس ہمارے لئے کسی قسم کی گھبراہٹ کی بات نہیں بلکہ اگر میرے مدنظریہ نہ ہوتا کہ ساری جماعت کو اس میں شریک کیا جائے تو قادیان سے ہی پانچ سو کیا ہزار دو ہزار بلکہ چار ہزار لوگ مباہلہ میں شریک ہونے کے لئے تیار ہو سکتے تھے لیکن میں چاہتا ہوں یہ ایک نمائندہ مباہلہ ہو جس میں احرار کے بھی منتخب کردہ لوگ ہوں اور ہماری جماعت کے بھی منتخب کردہ لوگ۔آخر میں میں ان کی سہولت کیلئے ایک اور تجویز بھی بتا دیتا ہوں اور وہ یہ کہ خواہ احرار خط و کتابت میں ابتداء نہ کریں ان تین اصحاب کا جنہیں میں نے نمائندہ مقرر کیا ہے یعنی چوہدری اسد اللہ خانصاحب بیرسٹر ، شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ اور مولوی غلام احمد صاحب ، اِن کا فرض ہے کہ وہ خود خط لکھ کر دفتر احرار میں بھجوائیں اور انہیں لکھیں کہ ہم ہر وقت تبادلۂ خیالات کیلئے تیار ہیں۔جو شرائط احرار پیش کرنا چاہتے ہیں وہ پیش کریں تاکہ جلد سے جلد مباہلہ کی تاریخ اور مقام کی تعیین کا اعلان کیا جا سکے۔پس بغیر اس کے کہ احرار کی طرف سے کسی تحریک کا انتظار کیا جائے ، ان تینوں اصحاب کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ میرے خطبوں کی روشنی میں ایک خط لکھ کر دفتر احرار میں بھجوادیں اور جو شرطیں میں نے پیش کی ہیں وہ انہیں لکھ دیں لیکن ساتھ ہی وضا حنا یہ بھی بیان کر دیں کہ یہ آخری شرطیں نہیں اگر ان شرطوں میں سے کوئی شرط ایسی ہو جو انہیں بو جھل محسوس ہوتی ہو تو اُن کے دلائل سننے کے بعد میں ان شرائط میں بھی تبدیلی کرنے کے لئے تیار ہوں یا اگر کوئی زائد شرط ان کی طرف سے پیش ہو تو میں اس پر بھی غور کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوں پس دونوں فریق کی ضرورتوں اور اس کے عقائد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان شرطوں میں تبدیلی ہو سکتی ہے یہ آخری شرطیں نہیں۔غرض وہ جلد سے جلد ان کو ایک پڑھی لکھ دیں اور یہ بھی تحریر کر دیں کہ انہیں مقام مباہلہ کی تعیین کا پورا پورا اختیار ہے چاہے وہ لاہور میں مباہلہ کر لیں چاہے گورداسپور میں کر لیں۔اور اگر قادیان میں مباہلہ کرنے کا شوق ہو تو وہ خوشی سے قادیان تشریف لے آئیں بلکہ ہماری زیادہ خواہش یہ ہے کہ وہ