خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 577

خطبات محمود ۵۷۷ سال ۱۹۳۵ء ہو جاتی ہیں۔دیکھ لو میں نے تبلیغ کو وسیع کرنے کے لئے نوجوانوں سے مطالبہ کیا کہ آؤ اور اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کرو۔اس پر بیسیوں نہیں سینکڑوں نو جوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔گریجوایٹوں کو پندرہ پندرہ روپیہ ماہانہ ملتا ہے اسی میں انہیں کھانا پینا اور دیگر ضروریات کو پورا کرنا پڑتا ہے مگر اس قلیل سی رقم پر وہ ہندوستان سے باہر جاتے اور تبلیغ اسلام کرتے ہیں۔جہاں غریب سے غریب آدمی کا بھی تھیں چالیس روپیہ سے کم میں گزارہ نہیں ہو سکتا۔ذرا آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کو اپنی بیعت میں شامل رکھنے کا ادعا کرنے والے بھی تو اس قسم کا اعلان کر دیکھیں پھر انہیں خود بخو د نظر آ جائیگا کہ کتنے آدمی ان کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔یا مثلاً میں نے اعلان کیا کہ آؤ اور چندہ دو اور میں نے ساتھ ہی کہا کہ ابھی وہ اہم زمانہ نہیں آیا جس میں اس سے بہت زیادہ مالی قربانیوں کا مطالبہ کیا جائیگا۔لیکن میں نے ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ کی اپیل کی اور جماعت نے ایک لاکھ آٹھ ہزار روپیہ کے وعدے کئے۔جن میں سے ۸۲ ہزار سے کچھ زیادہ روپیہ وصول ہو چکا ہے اور ابھی میعاد ختم نہیں ہوئی۔۲۲ نومبر کو میں نے یہ اعلان کیا تھا جس کے ماتحت ابھی ایک مہینہ سے زیادہ کا عرصہ رہتا ہے بلکہ قریبا دو مہینے ابھی باقی ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت حد تک وعدے پورے ہو جائیں گے۔غرض یہ وہ قربانی ہے جو ہر ایک کو نظر آ سکتی ہے ایک چھوٹی سی جماعت جسے چھپن ہزار کہا جاتا ہے اگر وہ ایک لاکھ آٹھ ہزار کا وعدہ کر سکتی ہے حالانکہ وہ غرباء کی جماعت ہے اُمراء کی نہیں تو وہ آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندہ ہیں اور اگر یہ صحیح ہے کہ آٹھ کروڑ مسلمان ان کی بیعت میں شامل ہیں تو چاہئے تھا وہ اس رقم سے سولہ سو گئے زیادہ رقم یعنی سولہ کروڑ روپیہ جمع کرنے کا وعدہ کرتے جیسا کہ ہماری جماعت نے صرف تین مہینوں میں کیا۔اور پھر اب تک ۱۳ کروڑ روپیہ ان کے خزانہ میں جمع ہو جاتا۔مگر کیا ان کی بیعت کرنے والوں نے اس قسم کی کوئی قربانی کی۔وہ خود مانتے ہیں کہ ہم نے احمدیوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے ، وہ تسلیم کرتے ہیں کہ احمدیوں کو مختلف مقامات میں مارا پیٹا اور ذلیل کیا گیا ہے گویا ان کے نزدیک بھی احمدی ہونا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ کولہو میں سر د ینے والی بات ہے لیکن باوجود ان مشکلات و شدائد کے جماعت کا قربانی کرنا بتا تا ہے کہ ان کی بیعت اور ہماری بیعت میں فرق ہے وہاں بیعت کا صرف اتنا ہی مفہوم ہے کہ جلسہ میں ہاتھ کھڑے کر دیئے اسی لئے کل تک وہ اپنے آپ کو بیعت میں شامل قرار دیتے تھے