خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 576

خطبات محمود ۵۷۶ سال ۱۹۳۵ء کھڑے کر دیتے یا آج انہی لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں جو تیاں پکڑی ہوئی ہیں اور احرار کو مارنے کیلئے بے تاب پھرتے ہیں۔بھلا یہ بھی کوئی بیعت ہے اور کیا اس قسم کی بیعت کی کسی عقلمند کے نزدیک ذرہ بھر بھی وقعت ہو سکتی ہے۔(اس موقع پر ایک رقعہ پیش کیا گیا جسے پڑھ کر فر مایا کہ شیخ بشیر احمد صاحب یہاں موجود ہیں وہ لکھتے ہیں کہ ہماری طرف سے بڑے بڑے پوسٹروں اور پمفلٹوں کے ذریعہ مباہلہ کا چیلنج دُہرایا گیا لیکن احرار کی طرف سے اب تک کوئی جواب نہیں آیا ) پس ان کی بیعت اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتی بلکہ بیعت کرنے والے یہ بھی نہیں جانتے کہ بیعت کا مفہوم کیا ہے اور اگر وہ بیعت کا مفہوم سمجھتے ہیں تو بتا ئیں بیعت کے بعد انہوں نے کیا قربانی کی۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں تو ہم دیکھتے ہیں ادھر ایک شخص نے بیعت کی اُدھر اسے اپنا وطن چھوڑ نا پڑا ،عزیز واقارب سے علیحدہ ہونا پڑا، گالیاں سننی پڑیں ، پھر نئی قسم کی عبادتیں کرنی پڑیں۔دن رات میں پانچ وقت بلکہ آٹھ وقت شراب پینے والے کو پانچ وقت بلکہ نوافل ملا کر آٹھ وقت نمازیں پڑھنی پڑتیں۔لوٹ مار سے اپنا پیٹ پالنے والوں کو حکم دیا گیا کہ اپنے مالوں سے زکوۃ نکالو۔حرام خوری کرنے والوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اپنے حلال رزقوں کو بھی بعض اوقات اپنی ذات پر خرچ نہ کرو۔آزادی کا دم بھرنے والے جو اتنا بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ ان کی ماں سے کوئی شخص کوئی چیز اٹھوا بھی لے۔ان سے یہ اقرار لیا گیا کہ وہ پورے طور پر بنی نوع انسان کے ہمدرد اور خیر خواہ رہیں گے اور خدا کی غلامی میں ہمیشہ اپنی عمر بسر کریں گے۔غرض بیعت کرنے کے بعد ہر شخص کو قربانی کرنی پڑتی تھی اور سب کو وہ قربانی نظر آتی تھی۔اب بھی ہماری جماعت میں داخل ہونے والوں کو اہم قربانیاں کرنی پڑتی ہیں اور ہر ایک شخص ان قربانیوں کو جانتے ہوئے بیعت کرتا ہے اور عملاً قربانی کر کے بیعت کی سچائی کا ثبوت دیتا ہے۔مثلاً ان لوگوں کو رشتہ دار چھوڑنے پڑتے ہیں کفر کے فتوے سننے پڑتے ہیں ، مالی ایثار سے کام لینا پڑتا ہے ، ملازمتوں ، جائدادوں ، عزتوں کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے لیکن وہاں ہاتھ کھڑے کر کے کونسی قربانی کرنی پڑتی ہے۔اسی لغو بیعت کا نتیجہ یہ ہے کہ یا تو وہ بیعت میں اپنے ہاتھ کھڑے کیا کرتے تھے یا اب انہی کو بُرا بھلا کہتے ہیں پس اس قسم کی بیعت کو پیش کر کے کہنا کہ ہم آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندے ہیں بالکل غلط بات ہے۔وہ جن کی نمائندگی کا انہیں ادعا ہے، وہ تو بیچارے یہ بھی نہیں جانتے کہ بیعت کیا چیز ہوتی ہے اور بیعت کے بعد انسان پر کیا ذمہ داریاں عائد