خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 578

خطبات محمود ۵۷۸ سال ۱۹۳۵ء اور آج انہیں مارنے دوڑتے اور سخت بُرا بھلا کہتے ہیں۔مولوی عطا اللہ صاحب نے حال ہی میں گوجرانوالہ میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا را ولپنڈی میں میری سخت بے عزتی کی گئی ہے اور میری بچی اور ماں کا نام لے لے کر سر بازار نہایت گندی گالیاں دی گئی ہیں ایسی گندی گالیاں کہ میں بیان بھی نہیں کر سکتا۔یہ گالیاں دینے والے وہی تھے جو گل مولوی عطا اللہ صاحب کی بیعت میں شامل تھے گویا احرار نہ لوگوں کے اخلاق درست کر سکے اور نہ انہیں بیعت کا حقیقی مفہوم سمجھا سکے۔پس ان کی نمائندگی کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔وہی جو آج احرار کو گالیاں دے رہے ہیں اگر کل احرار پر عذاب آیا تو کہہ دیں گے ہمارا ان سے کیا واسطہ اور ہمارے لئے ان کی رُسوائی کس طرح محجبت ہو سکتی ہے۔پس اس نقص کے ازالہ کے لئے ضروری ہے کہ پانچ سو یا ہزار آدمی مباہلہ میں شامل کیا جائے تا جب اللہ تعالیٰ کا عذاب اُترے تو لاکھوں نہ سہی ہزاروں گھروں میں یہ شور تو بچ جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کا یہ نتیجہ ہے۔ہزار نہ ہی پانچ سو آدمی ہی مباہلہ کے لئے نکل آئے تو ہر ایک کے تئیں چالیس یا پچاس رشتہ دار ضرور ہوں گے۔بیویاں، بچے ، بہنیں ،سالے، سالیاں ، پھوپھیاں ، خالائیں سب کو اگر ملا لیا جائے تو پانچ سو افراد کا اثر قریباً ۲۵ ہزار آدمیوں پر پڑتا ہے۔علاوہ ازیں پانچ سو کی شمولیت یوں بھی لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔پس ضروری ہے کہ مباہلہ میں ہزار یا کم از کم پانچ سو افراد شامل ہوں۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس شرط پر انہیں کیا اعتراض ہے۔سنا ہے یہاں بھی انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا ہم پانچ سو یا ہزار آدمی تو لا سکتے ہیں مگر اس کی ضرورت کیا ہے میں کہتا ہوں اگر اس کی کوئی اور ضرورت نہ بھی سمجھی جائے تب بھی اس کا یہی بہت بڑا فائدہ ہے کہ اس طرح پتہ لگ جائے گا کہ آیا وہ لوگ جو ہمیں کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کی بہتک کرتے ہیں ، اس دعوے میں پانچ سو آدمی بھی ان کے ساتھ شامل ہیں یا نہیں۔یوں تو کئی عیسائی پادری اور ہندو پنڈت بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں توحید کی تعلیم نہیں پائی جاتی لیکن دوسرے ہندو اور عیسائی جانتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے۔قرآن مجید نے ہی حقیقی تو حید کی تعلیم دنیا کے سامنے پیش کی اور اگر ان سے گفتگو کی جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں ہمارے پادری اور پنڈت زیادتی کرتے ہیں۔اسی طرح ممکن ہے وہ جو ہم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں ، ان کے اس اعتراض میں پانچ سو بھی ان کے ہمنوا نہ ہوں۔پس اگر پانچ سو آدمی وہ اکٹھا کر لیں تو ہم کہہ سکیں گے