خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 499

خطبات محمود ۴۹۹ سال ۱۹۳۵ء کہ وہ ستاسو دا کہاں سے خریدتا ہے کیونکہ اگر وہ یہ بتا دے تو اس کا ہمسایہ سو دا گر بھی وہاں سے سودا خرید لائے اور اس طرح اس کا مقابلہ کرنے لگے۔اسی طرح تا جر کبھی دوسرے کو یہ نہیں بتائے گا کہ وہ اعلیٰ درجہ کی چیز کہاں سے خریدتا ہے کیونکہ اگر وہ بتا دے تو دوسرا تاجر بھی وہاں سے اعلیٰ چیزیں خرید لائے گا اور اس کی تجارت کو نقصان پہنچ جائے گا۔مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ لا ہور گیا حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کا زمانہ تھا وہاں ہمارے ایک دوست تاجر ہیں جو بائیسکلوں کی تجارت کرتے ہیں۔میں کسی کام کے لئے ان کے پاس بیٹھا تھا کہ باتیں کرتے ہوئے ان کے پاس ایک تار پہنچا انہوں نے جو نہی اسے کھولا اور پڑھا معاً کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے آپ اجازت دیں تو میں دس منٹ کے لئے باہر جانا چاہتا ہوں۔یہ کہتے ہی وہ بائیسکل پر سوار ہوئے اور دیوانہ وار سے دوڑاتے ہوئے چلے گئے میں حیران ہوا کہ یہ کیسا تار آیا ہے جس نے انہیں اس قدر بے تاب کر دیا۔آخر ہمیں چھپیں منٹ کے بعد وہ آئے اور کہنے لگے میں ایک منٹ لیٹ پہنچا ور نہ آج مجھے سینکڑوں کا نفع ہو جاتا۔میں نے پوچھا بات کیا ہوئی ؟ انہوں نے کہا مجھے تار پہنچا تھا کہ ڈن لوپ کے بائیسکلوں کے ٹائروں کا بھاؤ مہنگا ہو گیا ہے۔مال روڈ پر ٹائروں کی ایک دکان تھی میں وہاں پہنچا اور اگر میں اس سے ٹائروں کا سودا کر لیتا تو آج کئی سو کا مجھے نفع ہو جاتا کیونکہ میں نے یہ اندازہ کیا تھا کہ اس کے پاس تار میرے بعد پہنچے گا اور چونکہ تار والے نے راستہ میں اور تار دینے تھے اس لئے میں اس خیال میں رہا کہ اس کے پاس تار پہنچتے وقت تک میں اس سے سودا کر چکوں گا اور جب بعد میں اسے تار پہنچ گیا تو میں کہوں گا کہ میرے سودے پر اس بھاؤ کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا لیکن جب میں وہاں پہنچا اور ٹائروں کے متعلق میں نے سودا کیا تو اُسی وقت تا ر بھی پہنچ گیا اور اس طرح میر اسو دارہ گیا۔یہ کتنا جائز مقابلہ ہے مگر اس میں بھی راز سے پہلے واقف ہو جانے کی وجہ سے ایک شخص فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور دوسرا نقصان اُٹھا سکتا ہے۔پس یہ مت خیال کرو کہ چونکہ تم نے جائز ذرائع سے کام لینا ہے اس لئے دشمن بے شک تم میں شامل ہو جائے۔تمہارے لئے بہر حال احتیاط ضروری ہے کیونکہ دشمن تمہارے عہدوں میں خرابی پیدا کر سکتا ہے، تمہارے طریق کا رکو نقصان پہنچا سکتا ہے اور تمہارے رازوں کو دشمن تک پہنچا کر تمہاری سکیموں کو باطل کر سکتا ہے اس لئے یہ قانون بنا دو کہ ۱۹۳۴ ء سے پہلے کے احمدی نیشنل لیگ میں داخل ہو سکتے ہیں بعد کے احمدی بغیر خاص اجازت کے داخل نہیں ہو سکتے۔یہ میری مراد نہیں کہ پہلے احمدیوں کو حق