خطبات محمود (جلد 16) — Page 436
خطبات محمود ۴۳۶ ۲۸ سال ۱۹۳۵ء احراریوں کی سازش سے قاتلانہ حملہ کے اثرات جماعت احمدیہ اور حکومت برطانیہ (فرموده ۲۶ جولائی ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں اپنے گزشتہ خطبات کے تسلسل میں آج بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں اور آج میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس واقعہ کے بُرے پہلو کے علاوہ کچھ اور پہلو بھی ہیں جنہیں ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔سب سے پہلے میں احرار کو لیتا ہوں کہ اس واقعہ کی وجہ سے ان کی جماعت پر کیا اثر پڑا ہے اور کیا پڑ سکتا ہے۔دنیا میں ہر ایک مذہب وملت میں شریف لوگ بھی ہوتے ہیں اور دوسرے بھی ہوتے ہیں۔اشتعال کے وقت شرافت دب جاتی ہے اور وحشت غالب آ جاتی ہے اور جب اشتعال نہ ہو تو وحشت دب جاتی ہے اور شرافت غالب آ جاتی ہے۔گو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی شرافت ہر وقت غالب رہتی ہے اور ایسے بھی جن کی وحشت ہر وقت غالب ہوتی ہے مگر اکثر حصہ انسانوں کا جن کو انبیاء یا ان کے فیض یافتہ لوگوں کی صحبت میسر نہیں ہوتی ایسا ہی ہوتا ہے کہ اشتعال کے وقت ان کی شرافت اور اخلاق دب جاتے ہیں اور دوسرے اوقات میں ظاہر ہو جاتے ہیں۔پس اس واقعہ کو اس نگاہ سے بھی دیکھنا چاہئے کہ اس کا اثر شرفاء پر کیا ہو گا۔یہ تو خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ باوجود اشتعال اور باوجود اس کے کہ مسلمان آج ہمیں غیر سمجھتے ہیں ، مسلمان شرفاء سے خالی ہیں۔دنیا میں کوئی قوم کی کہ دہر یہ قوم بھی