خطبات محمود (جلد 16) — Page 340
خطبات محمود ۳۴۰ ٢٢ سال ۱۹۳۵ء کامیابی کے چارگر فرموده ۱۴ / جون ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے مقدمہ کا فیصلہ سیشن جج گورداسپور نے کر دیا ہے اور بعض اخبارات میں شائع ہو چکا ہے احمدیوں میں سے بھی بہت سے احباب نے اسے پڑھا ہوگا اور میں سمجھتا ہوں کہ جس احمدی نے بھی اسے پڑھا ہوگا اُس کا دل کباب ہو گیا ہوگا اور جس کے دل میں ذرہ بھی ایمان ہو اُس کو وہ فیصلہ پڑھ کر سخت تکلیف ہونا لازمی امر ہے کیونکہ اس میں بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سخت تو ہین کی گئی ہے اور آپ کا ذکر عیاش ، متکبر ، متمرد وغیرہ الفاظ سے کیا گیا ہے۔پیشتر اس کے کہ کوئی مخلص اپنے اخلاص اور جوش کی وجہ سے قدم اٹھائے ، میں چاہتا ہوں کہ اس پوزیشن کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دی ہے اور اس حکومت کی وجہ سے جو آپ لوگوں نے میری بیعت کر کے اپنے اوپر قبول کی ہے اس معاملہ میں جماعت کی راہنمائی کروں۔میرے نزدیک ہمیں پہلے یہ دیکھ لینا چاہئے کہ حکومت اس فیصلہ کے بارہ میں کیا قدم اُٹھاتی ہے کیونکہ اگر حکومت چاہے تو وہ دو ماہ کے عرصہ کے اندر اندر اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتی ہے اس عرصہ میں جماعت کے لوگ خاموش رہیں اگر حکومت ہمارے احساسات کو جو صدمہ پہنچا ہے اُس کا ازالہ کر دے تو پھر سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک ایسا ذریعہ نکال دیا ہے جس سے ہم بغیر ذاتی قربانی کے اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہیں لیکن اگر حکومت اپنے رویہ سے یہ ثابت