خطبات محمود (جلد 16) — Page 341
خطبات محمود ۳۴۱ سال ۱۹۳۵ء کرے کہ وہ خوش ہے تو پھر قانونی اور علمی رستے بھی ہمارے لئے کھلے ہیں۔قانون ہمیں بھی اجازت دیتا ہے کہ جا کر اپیل کریں اور ثابت کریں کہ ہمارے متعلق جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ غلط ہیں اور علمی طور پر بھی ہمارے پاس ایسا مصالحہ موجود ہے کہ جواب دے سکیں۔باقی رہا وہ جواب جو احراری دیتے ہیں کہ جس نے گالی دی اُسے مار دیا، اس کے ہم قائل نہیں اور اسے سراسر نا جائز سمجھتے ہیں بلکہ ہماری جماعت میں سے اگر کوئی ایسا فعل کرے تو ہم اسے قابل نفرت سمجھتے ہیں۔ہاں جائز رستے ہمارے لئے کھلے ہیں اور ان پر ہم آج بھی چل سکتے ہیں اور دو ماہ بعد بھی ہائی کورٹ کا دروازہ جس طرح ہمارے لئے آج کھلا ہے دو ماہ بعد بھی کھلا رہے گا اور علمی طور پر جواب جیسا آج دیا جا سکتا ہے دو ماہ چھوڑ دو سال بعد بھی دیا جا سکتا ہے۔ایک اور تیسرا راستہ بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں اس کے لئے کسی انتظار کی ضرورت نہیں یہ ہم آج سے ہی شروع کر سکتے ہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہر بچے احمدی کے دل سے جوں جوں وہ یہ فیصلہ پڑھتا ہوگا ساتھ ہی ساتھ بددعانکلتی چلی گئی ہوگی اس کے لئے کسی خطبہ کی ضرورت نہیں اس فیصلہ کو پڑھتے ہوئے اس کے پہلے فقرہ سے ہی ایک احمدی کے دل سے آہ نکلی ہو گی ایسی آہ جو خدا کے عرش کو ہلا دیتی ہے۔پس یہ تین رستے ہیں ان میں سے ایک بے شک ابھی سے استعمال ہو رہا ہو گا باقی جو دو ہیں ان کے لئے کچھ دن ہمیں دیکھنا چاہئے حکومت کیا طریق اختیار کرتی ہے حکومت کو اپنی صفائی کا موقع دینا چاہئے۔بے شک حکومت سے ہمارے اختلافات ہوئے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سمجھیں کہ وہ اپنے فرائض سے غافل ہے بالکل ممکن ہے غلطیاں نادانی سے ہوئی ہوں جس طرح یہ ممکن ہے کہ دیدہ دانستہ سب کچھ کیا گیا ہو اسی طرح یہ بھی تو ممکن ہے کہ نادانی سے غلطیاں ہوئی ہوں اس لئے حکومت کو ثابت کرنے کا موقع دینا چاہئے کہ اب تک جو غلطیاں ہوئی ہیں وہ نادانی سے ہوئیں اور اب وہ ایسا طریقہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں۔ہمیں چاہئے کہ صبر کر کے حکومت کو اپنی بریت کا موقع دیں اور اگر یہ معلوم ہو کہ وہ کچھ نہیں کرنا چاہتی تو پھر ہم کوئی اور ذریعہ اختیار کریں گے۔پس یہ دن ہمارے امتحان اور صبر کی آزمائش کے دن ہیں دوسروں کی گالیوں سے جوش میں نہیں آنا چاہئے یہی گالیاں ہمیں پچاس سال سے مل رہی ہیں یہ کوئی نئی نہیں ہیں پھر یہ گالیاں رسول کریم ﷺ کو بھی ملتی تھیں جنہیں صحابہ سنتے اور برداشت کرتے تھے اور جائز ذرائع سے جواب دیتے تھے۔پس ہمارا فرض