خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 27

خطبات محمود ۲۷ سال ۱۹۳۵ء کہ وہ یہ واضح کر دیں کہ وہ کس مہینہ سے اپنی امانت ادا کرنی شروع کریں گے۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو دفتر امانت یہی سمجھے گا کہ جنوری سے انہوں نے وعدہ کیا ہو اہے اور یہ کہ انہوں نے اپنے وعدہ پر عمل نہیں کیا۔اس صورت میں ایک دو ماہ کی غفلت کے بعد ان کا نام دفتر سے کاٹ دیا جائے گا اور سمجھا جائے گا کہ انہوں نے صرف دکھاوے سے کام لیا، حقیقت اس میں نہیں تھی۔پس میں اس اعلان کے ذریعہ قادیان والوں کو براہ راست اور باہر کی جماعتوں کو اخبار کے ذریعہ توجہ دلاتا ہوں کہ ہم نے مجوزہ سکیم پر کام شروع کر دیا ہے اور جماعتوں کے سیکرٹریوں اور امراء کو چاہئے کہ وہ میرا یہ خطبہ لوگوں کو پڑھ کر سنا دیں کیونکہ اس کے سوا میری آواز ان تک پہنچنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی جماعت ہے مگر اخبار’ الفضل“ کی اشاعت پندرہ سولہ سو کے درمیان رہتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزار ہا آدمی ہماری جماعت میں ایسے ہیں جن کے کانوں تک میری آواز نہیں پہنچتی۔بنگالی اردو کا ایک حرف تک نہیں جانتے پس وہ ” الفضل‘ سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔پھر ہمارے ملک میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔اندازہ لگایا گیا ہے کہ مسلمانوں میں سے صرف تین چار فیصدی تعلیم یافتہ ہیں باقی چھیانوے ستانوے فیصدی ایسے لوگ ہیں جو پڑھے لکھے نہیں۔پھر جو لوگ پڑھ بھی سکتے ہیں ،ان میں سے کچھ غریب ہوتے ہیں اور وہ اپنی غربت کی وجہ سے اخبار نہیں منگوا سکتے۔بہت سے سُست ہوتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو لکھے پڑھے ہونے کے باوجود اخبار نہیں منگواتے اور اگر ان کے قریب کوئی اور شخص اخبار منگوا تا ہو تو اسی سے پوچھتے رہتے ہیں سنائیے ” الفضل میں سے کوئی تازہ بات۔گویا وہ اتنا ہی کافی سمجھتے ہیں کہ اخبار لے کر پڑھ لیا۔یا کسی دوسرے سے کوئی ایک آدھ خبر معلوم کر لی خود اس کو خرید نا ضروری نہیں سمجھتے۔پس ان تمام لوگوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ جماعت کے عہدیداروں کا فرض ہے کہ وہ جمعہ یا اتوار کے دن یا ہفتہ میں کسی اور موقع پر میرا ہر خطبہ لوگوں کو سنا دیا کریں بلکہ جماعت کا اصل کام یہی ہونا چاہئے اور ہر جگہ کی جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ میرا خطبہ جمعہ تفصیلاً یا خلاصۂ لوگوں کو جمعہ یا اتوار کے دن سنا دیا کریں۔جس شخص کے سپر د خدا تعالیٰ جماعت کی اصلاح کا کام کرتا ہے اسے طاقت بھی ایسی بخشتا ہے جو دلوں کو صاف کرنے والی ہوتی ہے اور جواثر اس کے کلام میں ہوتا ہے ، وہ دوسرے کسی اور کے کلام میں نہیں ہوسکتا لیکن میں نے دیکھا