خطبات محمود (جلد 16) — Page 26
خطبات محمود ۲۶ سال ۱۹۳۵ء اس امر کی امید نہ رکھیں کہ لوگ ان کے پاس پہنچیں گے اور کہیں گے کہ لاؤ چندہ۔صدر انجمن والے چندوں میں پیچھے پڑ کر چندہ لیا جاتا ہے مگر یہ مطاوعت والے چندے ہیں اس لئے جس طرح اس تحریک میں شامل کرنے کے لئے کسی پر جبر نہیں کیا گیا اسی طرح شامل ہونے کے بعد بھی کوئی جبر نہیں ہو گا۔پس اگر کوئی دوست اس ثواب میں شریک ہونے سے اس وجہ سے محروم رہ جائے کہ اس سے چندہ مانگا نہیں گیا تو اس کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوگی۔میری ہدایات دفاتر متعلقہ کو یہی ہوں گی کہ وہ چندہ لوگوں سے مانگیں نہیں مگر چونکہ انسان کے ساتھ نسیان بھی لگا ہوا ہے اس لئے کبھی کبھار اگر ایک دو یاد دہانیاں کرا دی جائیں تو کوئی حرج نہیں۔مگر وعدے والے پر بھی اصرار نہ کیا جائے اور خالص طور پر اس میں لوگوں کو اپنی مرضی اور شوق کے ظاہر کرنے کا موقع دیا جائے۔ممکن ہے اس لحاظ سے کہ چندہ مانگنے کیلئے دفاتر متعلقہ کی طرف سے زیادہ اصرار نہیں کیا جائے گا ، رقم کچھ کم ہو جائے اور غفلت، نستی یا کمزوري ایمان کی وجہ سے بعض لوگ رہ جائیں۔پھر کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو فوری جوش میں آ کر اپنا نام لکھا دیتے ہیں مگر بعد میں وہ اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتے اور گو ہماری جماعت میں ایسا عصر بہت کم ہوتا ہے لیکن چونکہ دوسرے چندوں میں اصرار کی عادت کی وجہ سے امکان ہے کہ ان چندوں میں عدم اصرار انہیں سُست کر دے اس لحاظ سے ممکن ہے کہ رقم میرے اوپر بیان کردہ اندازہ سے کچھ کم موصول ہو۔پھر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کچھ رقم انگریزی ترجمہ قرآن کے لئے علیحدہ کر لی جائے گی اور کچھ رقم خرچ کر کے اندازوں کی غلطی کی وجہ سے بیان کردہ مدات میں ڈالنی پڑے گی کیونکہ بعد میں مزید غور کرنے سے بعض مذات کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ ان پر اس سے زیادہ خرچ آئے گا ، جتنا میں نے بیان کیا تھا۔ان تمام اخراجات کے بعد جو رقم بچ رہے گی وہ آنے والے دونوں سالوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔امانت کے متعلق جو وعدے ہوئے ہیں ، ان سے میرا اندازہ ہے کہ تین چار ہزار روپیہ ماہوار کی رقم آئیگی لیکن ہم یہ خیال کرتے تھے اور بات بھی معقول تھی کہ جنوری سے مڈ امانت میں ادائیگی شروع ہو جائے گی کیونکہ جنہوں نے دسمبر میں وعدے کئے تھے وہ وعدے انہوں نے اس وقت کئے جب کہ وہ اپنی تنخواہیں خرچ کر چکے تھے۔پس امید کی جاتی تھی کہ وہ جنوری سے امانتیں جمع کرانی شروع کر دیں گے اور میں اب بھی امید کرتا ہوں کہ جنہوں نے امانت کے وعدے کئے ہیں ان کے ذہن میں یہی بات ہو گی۔مگر جن کے ذہن میں یہ بات نہ ہو انہیں چاہئے