خطبات محمود (جلد 16) — Page 28
خطبات محمود ۲۸ سال ۱۹۳۵ء ہے سیکرٹریوں یا امراء کو یہ شوق ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ خود ہی خطبہ پڑھیں۔مجھے کئی رپورٹیں ایسی آتی رہتی ہیں کہ جماعت کے لوگ بعض اہم خطبات کی نسبت چاہتے ہیں کہ ” الفضل“ سے پڑھ کر سنا دیئے جائیں مگر سیکرٹری یا امیر مصر ہوتے ہیں کہ نہیں ، وہ اپنا ہی خطبہ سنائیں گے۔گویا وہ اپنی تقریر کے شوق اور لیڈری کی اُمنگ میں ان فوائد سے قوم کو محروم کر دیتے ہیں جو جماعت کے لئے ایسے ہی ضروری ہوتے ہیں جیسے بچہ کے لئے دودھ۔پس چونکہ یہ نہایت ہی خطرناک پالیسی ہے اس لئے آئندہ جماعتوں کو چاہئے کہ جو خطبات میں پڑھوں انہیں وہ جب بھی موقع ملے جماعت کو سنا دیا کریں۔جو زیادہ اہم ہوں انہیں تو جمعہ کے خطبہ کے طور پر سنادیں اور جن میں کسی خاص سکیم کا ذکر نہ ہوا سے جمعہ یا اتوار کو کوئی الگ مجلس کر کے خطبہ یا خطبے کا خلاصہ سنا دیا کریں۔بعض دفعہ خطبہ لمبا ہوتا ہے یا جماعت میں سے اکثر نے پڑھا ہوا ہوتا ہے اس صورت میں خطبے کا خلاصہ سنا دینا چاہئے مگر بہر حال جماعت کے ہر فرد تک خطبات کی آواز پہنچنی چاہئے۔جو دراصل آواز پہنچانے کا اکیلا ذریعہ ہے۔ورنہ امام کے لئے اور کون سا طریق ہو سکتا ہے جس سے کام لے کر وہ جماعت کو اپنے مافی الضمیر سے آگاہ کر سکے۔جماعت کے نام خطوط تو میں لکھ نہیں سکتا، اس کے علاوہ کتا بیں بھی میں اب نہیں لکھتا پس یہ خطبات ہی ایسی چیز ہیں جس کے ذریعہ میں اپنا عندیہ یا وہ عندیہ جو خدا تعالیٰ سے معلوم کروں ، ظاہر کرتا رہتا ہوں۔اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دوسرے کاموں میں سے بھی بعض کام شروع کر دیئے گئے ہیں۔مثلاً جو تبلیغ کا کام تھا اور جس کے متعلق میں نے مطالبہ کیا تھا کہ دوست اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔یا جو لوگ سال میں یا دو دو تین تین سال کے بعد لمبی چھٹیاں لے سکتے ہوں ، وہ اپنی فرصت اور رخصت کے اوقات کو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر دیں تا کہ انہیں تبلیغ پر لگایا جا سکے اور لوگوں کو احمدیت کی طرف متوجہ کیا جا سکے۔اس کام کے لئے فی الحال دو مرکز قائم کئے گئے ہیں اور کام بھی شروع کر دیا گیا ہے لیکن میں ان مرکزوں کا نام نہیں بتا تا کیونکہ ان کا مخفی رکھنا ضروری ہے۔اس کے علاوہ چار سائیکلسٹ بھی روانہ ہو چکے ہیں لیکن ساری سکیم پر دوبارہ غور کرنے اور عملی پہلوؤں کو اپنے ذہن میں مستحضر کرنے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں پانچ نہیں بلکہ سولہ سائیکل سواروں کی ضرورت ہے اور اب تجویز یہی ہے کہ سولہ سائیکلسٹ مقرر کئے جائیں۔اور چونکہ تجویز کی وسعت کے ساتھ