خطبات محمود (جلد 16) — Page 274
خطبات محمود ۲۷۴ سال ۱۹۳۵ء۔ایسی بات کب ہوئی تھی وہ واقعات کو دہرانا چاہتا ہے تو میں کہتا ہوں واقعات کو کیوں دُہراتے ہو میری عادت ہے کہ میں دوسروں کی کوتاہیوں کو بھلا دیا کرتا ہوں اور میں کوشش کیا کرتا ہوں کہ اگر کسی کی نیکی ہو تو مجھے یادر ہے اور اگر کسی کی بدی ہو تو وہ مجھے بھول جائے اور اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ لوگوں کی بدیاں مجھے بھول جایا کرتی ہیں بلکہ یاد دلانے پر بھی یاد نہیں آتیں۔لوگوں کی ہزار ہابدیاں میرے سامنے آتی ہیں اور میں انہیں اتنا بھلاتا ہوں ، اتنا بھلاتا ہوں کہ میرے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی ان کی یاد نہیں رہتی بلکہ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بتانے والا بتاتا ہے اور میں کہتا ہوں مجھے یاد نہیں اور میں سمجھتا ہوں ہر مؤمن کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کی خوبیاں یا د ر کھے اور عیوب کو بھلا دے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑا اور فتنہ و فساد پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے کسی بزرگ کا ایک شاگر د تھا جب وہ تعلیم حاصل کر کے اپنے وطن جانے لگا تو وہ بزرگ اسے کہنے لگے میاں تمہارے وطن میں شیطان بھی ہوتا ہے یا نہیں۔وہ حیران ہو کر کہنے لگا حضور شیطان بھلا کس جگہ نہیں ہوتا۔فرمانے لگے۔اچھا یہ تو بتا ؤ اگر شیطان تم پر حملہ کرے تو تم کیا کرو گے ( اس موقع پر بعض بچوں کے شور کی آواز بلند ہوئی تو حضور نے فرمایا بچے شور مچارہے ہیں اگر کسی کو توفیق مل جاتی کہ وہ بچوں کو سمجھا دیتا کہ نماز شور مچانے کے لئے نہیں ہوتی تو بہتر ہوتا۔خطبہ بھی نماز کا ایک حصہ ہوتا ہے اور خطبہ میں بولنا بھی ویسا ہی منع ہے جیسا کہ نماز میں ) وہ شاگرد کہنے لگا کہ میں اس حملہ کو روکوں گا اور اس کا مقابلہ کروں گا۔بزرگ کہنے لگے اچھا اگر ایک دفعہ رک گیا اور تم نے پھر خدا تعالیٰ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی اور وہ پھر تم پر حملہ آور ہو گیا تو پھر کیا کرو گے۔کہنے لگا پھر مقابلہ کروں گا۔وہ فرمانے لگے اگر تیسری دفعہ پھر ایسا ہی ہوا اور تم خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے جو نہی بڑھے وہ تم پر حملہ آور ہو گیا۔تو تم کیا کرو گے وہ کہنے لگا میں پھر مقابلہ کروں گا فرمانے لگے اگر تم اس طرح کرنے لگے تو پھر تمہاری ساری عمر شیطان سے لڑتے ہی گزر جائے گی خدا تعالیٰ کی محبت کب حاصل ہوگی۔وہ کہنے لگا پھر میں کیا بتاؤں اور تو کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔وہ فرمانے لگے اچھا یہ بتا ؤاگر تم کسی دوست سے ملنے جاؤ اور اس کا کتا تم پر حملہ کر کے تمہاری ایڑی پکڑ لے تو تم کیا کرو گے۔وہ کہنے لگا میں کتے کو مار کر ہٹاؤں گا اور اپنے دوست کی طرف بڑھوں گا۔فرمانے لگے اچھا اگر پھر ایسا ہی ہوا اور جب تم دوست کے مکان میں داخل ہونے لگے تو اس نے پھر تمہاری ایڑی پر حملہ کر دیا تو کیا کرو گے۔کہنے لگا حضور پھر میں اس