خطبات محمود (جلد 16) — Page 273
خطبات محمود ۲۷۳ سال ۱۹۳۵ء گے ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ اس قسم کے لوگ مخلص بھی کہلاتے ہیں اور پھر ایسی حرکات کرتے ہیں جو میرے نزدیک منافق بھی نہیں کرتے۔آخر رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے منافقوں کے متعلق بھی تو یہ کبھی نہیں سنا گیا کہ انہوں نے اتنے معمولی سے اختلاف کی بناء پر دوسروں کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی ہو۔پھر منہ سے ایمان کا دعویٰ کرنا اور عمل وہ اختیار کرنا جو منافق بھی اختیار نہ کرتے ہوں کس قدر افسوسناک امر ہے۔اس کا سوائے اس کے اور کیا مطلب ہوسکتا ہے کہ یا تو یہ لوگ باتیں سنتے نہیں اور اگر سنتے ہیں تو ایسی حالت میں کہ ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں اور کانوں میں روئی ٹھونسی ہوئی ہوتی ہے اور اخبار میں بھی جب ان کے پاس جاتی ہیں تو وہ انہیں نہیں پڑھتے۔ورنہ وجہ کیا ہے کہ اتنے تو اتر سے بات کہی جاتی ہے اور پھر بھول جاتی ہے میں اس بات کو سمجھ سکتا تھا کہ وہ جماعت یہ کہ دیتی کہ ہم خلیفہ کو نہیں مانتے ، میری عقل تسلیم کر سکتی تھی کہ انسان ایک وقت گر کر یہ کہہ سکتا ہے کہ خلافت کی ضرورت نہیں مگر ایک طرف منہ سے یہ دعوی کرنا کہ خلافت پر ہماری جان قربان ہے اور دوسری طرف یہ کہنا کہ ہم خلیفہ وقت کے فلاں حکم کو نہیں مانیں گے ایسی بات ہے جسے میری عقل کبھی ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی۔میں نے ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کو رویا میں دیکھا آپ ایک اور شخص سے فرما رہے تھے ا تُصَدِّقُنِی وَلَا تُؤْمِنُ بِی ارے تو میری تصدیق تو کرتا ہے مگر میری بات نہیں مانتا۔گویا یہ ایک حدیث ہے جو رسول کریم ﷺ کے منہ سے میں نے براہِ راست سنی۔لوگ تو احادیث کے متعلق یہ بحثیں کیا کرتے ہیں کہ یہ احاد میں سے ہے اور یہ تو اتر میں سے۔فلاں کے راوی ثقہ ہیں اور فلاں کے نہیں۔مگر یہ وہ حدیث ہے جو میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہِ راست سنی که ا تُصَدِّقُنِي وَلَا تُؤْمِنُ بِی یعنی تو میری بات کو تو سچا سمجھتا ہے مگر اسے مانتا نہیں۔یہی حالت ہماری جماعت کے بعض لوگوں کی ہے میں حیران ہوتا ہوں کہ ہمارے بعض دوستوں کی یہ کیا عادت ہے کہ وہ نہ تو خلافت کا انکار کرتے ہیں اور نہ میری بات مانتے ہیں اس لئے ایک دفعہ پھر اس موقع پر جبکہ تمام جماعتوں کے نمائندے جمع ہیں میں کہتا ہوں کہ اس قسم کی غیر معقول باتیں مؤمنانہ شان سے بہت بعید ہوتی ہیں۔اول تو یہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں کہ انسانی ذہن کو انہیں یاد بھی نہیں رکھنا چاہئے۔میری اپنی یہ حالت ہے کہ بعض دفعہ میرے پاس کوئی شخص آتا ہے اور کہتا ہے چھ مہینے ہوئے مجھ سے یہ غلطی ہوئی تھی آپ معاف فرما دیں میں کہتا ہوں مجھے یاد ہی نہیں کہ عروسة