خطبات محمود (جلد 16) — Page 264
خطبات محمود ۲۶۴ سال ۱۹۳۵ء ہندوؤں اور عیسائیوں سے پھر امتیازات لے لئے ہیں ، آج تک غیر قو میں یہ کہتی ہیں کہ اچھوت اگر کھپ سکتے ہیں تو مسلمانوں میں ہی دوسری قوموں میں نہیں۔یہ مسلمانوں کی گری ہوئی حالت کی اب تک کیفیت ہے۔عرب کا ایک قبیلہ تھا بہت زبر دست قبیلہ کوئی ساٹھ ہزار آدمی اس میں تھے یہ پرانے زمانہ میں عیسائی ہو چکے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں غالبا پھر مسلمان ہوئے ، ان کا ایک سردار جبلہ نامی تھا ، یہ لوگ شام کی سرحد پر رہتے تھے ایک دفعہ جبلہ حج کے لئے یا کسی اور غرض کے لئے عرب میں آیا تو وہ ایک دن پھر رہا تھا کہ کسی اور مسلمان کا پاؤں اس کے از ار یعنی نہ بند پر پڑ گیا جس سے اسے جھٹکا لگا اور وہ ڈھیلا ہو گیا۔جبلہ نے یہ دیکھا تو اس نے مسلمان کو چپیڑ ماری اور کہا بد تمیز آدمی ! تم شریف اور وضیع میں فرق کرنا نہیں جانتے اور دیکھتے نہیں کہ کس کے ازار پر تم نے پاؤں رکھا۔اس شخص نے تو یہ دیکھ کر کہ یہ کوئی نو وارد آدمی ہے۔خاموشی اختیار کر لی مگر کسی اور شخص نے جبلہ سے کہا کہ تجھ سے ایک ایسی حرکت ہوئی ہے کہ تیری بڑی عزت بھی اس کی سزا سے تجھے نہیں بچا سکتی بہتر یہی ہے کہ تم اس سے معافی مانگو۔جبلہ نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں معافی مانگوں۔اسی جوش میں وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور کہا اے بھائی ! میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ میں چھوٹے بڑے کا لحاظ نہیں ہوتا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مسلمان سب برابر ہیں چھوٹے بڑے کا ہم میں کوئی سوال نہیں۔اس نے پھر پوچھا کہ دنیا میں کوئی چھوٹا ہوتا ہے کوئی بڑا۔آپ نے پھر فرمایا کہ ہم میں کوئی بڑا چھوٹا نہیں۔اس نے کہا اگر کوئی چھوٹا آدمی گستاخی کرے اور بڑا اسے مارے تو کیا اس صورت میں بھی آپ لوگوں میں کوئی امتیاز نہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرما یا جبلہ کہیں تم نے تو کسی کو نہیں مارا؟ خدا کی قسم اگر تم نے کسی کو مارا ہے تو جب تک میں تجھے اس کے بدلہ میں پٹوا نہ لوں گا مجھے چین نہیں آئے گا اس وقت تو جبلہ وہاں سے بہانہ بنا کر آ گیا مگر واپس آ کر گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنے قبیلہ کی طرف بھاگ گیا اور اپنے تمام قبیلہ سمیت پھر عیسائی ہو گیا مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔غرض اسلام قوموں کے امتیازات کو مٹا دیتا ہے مگر یہ امتیازات بھی قلوب میں کچھ اس طرح داخل ہو چکے ہیں کہ لوگ ان کے مٹنے کو برداشت نہیں کر سکتے حالانکہ اسلام نام ہے ایک نئی زندگی اور نئی پیدائش کا۔گویا ہر انسان جو اسلام لاتا ہے یا احمدیت قبول کرتا ہے وہ اپنے پچھلے جسم پر ایک موت