خطبات محمود (جلد 16) — Page 263
خطبات محمود ۲۶۳ سال ۱۹۳۵ء سورہ جمعہ کی طرح آئندہ خطبات میں تفصیلاً اس کو بیان کر دوں گا فی الحال جس غرض کیلئے میں نے یہ آیات پڑھی ہیں وہ یہ ہے کہ انبیاء کی بعثت کا اصل مقصد دنیا میں قومیتوں اور دائروں کو مٹانا ہوتا ہے۔انبیاء جو نور لے کر دنیا میں آتے ہیں اور جس نور کے ذریعہ وہ دنیا کو روشن کرتے ہیں وہ لَا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةِ ہوتا ہے نہ وہ مشرقی ہوتا ہے نہ مغربی بلکہ وہ آسمانی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی خاص جگہ کا نہیں بلکہ اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ۔وہ مغرب کا ہے نہ مشرق کا ، شمال کا ہے نہ جنوب کا ، زمین کا ہے نہ آسمان کا بلکہ آسمان اور زمین کا نور ہے۔جب تک کسی جماعت میں یہ تعلیم قائم رہتی ہے وہ فاتح ، غالب، کامیاب اور کامران رہتی ہے اور جب کوئی جماعت اس تعلیم کو بھول جاتی ہے اس کے اندر تنزل ، اختلاف ، انشقاق اور افتراق پیدا ہو جاتا ہے۔دل تبھی پھٹتے ہیں جب دوئی آ جائے جب ایک مشرق ہو اور ایک مغرب۔جس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا میں دو چیزیں ہوں لیکن جب نہ مشرق ہو نہ مغرب بلکہ اللہ تعالیٰ ہی انسان کا مقصود ہو جو نُورُ السَّمَوَاتِ وَالارْضِ ہے مغرب میں بھی وہی نور ہے اور مشرق میں بھی ، شمال میں بھی وہی نور ہے اور جنوب میں بھی ، پس جب وہی چیز ہر جگہ ساری و طاری ہو تو پھر یہ جھگڑا کہاں سے پیدا ہوسکتا ہے کہ ہم کون اور تم کون۔رسول کریم ﷺ جب دنیا میں مبعوث ہوئے ، اس وقت قوموں کے سوال زوروں پر تھے آپ کی بعثت عرب میں ہوئی اور عرب قومیت کے بڑے پابند تھے۔ان کے اندر یہ پابندی اس حد تک تھی کہ بعض قبائل کے آدمی اگر کسی دوسرے قبیلہ کے کسی شخص کو مار دیتے تو انہیں سزا نہ دی جاتی کیونکہ لوگ کہتے یہ چھوٹے قبیلے کا آدمی تھا اور وہ بڑے قبیلے کا آدمی ہے۔تو بڑے بڑے قبائل اپنے لئے دوسرے قانون کا تقاضا کرتے اور چھوٹے قبائل اور قانون کا تقاضا کرتے یہاں تک کہ ان کے شودر بھی بالکل کوئی مطالبہ نہ کر سکتے۔اگر کوئی غلام مارا جاتا تو اس کے بدلے آزاد شخص قتل نہ کیا جا سکتا۔پھر یہ امتیاز اس حد تک تھا کہ اگر ایک بڑے آدمی کا غلام چھوٹے آدمی کے غلام کو مار دیتا تو پھر بھی فرق کیا جاتا اور کہا جاتا کہ گویا ایک غلام نے غلام کو مارا ہے مگر یہ بھی تو دیکھو کہ کس کے غلام نے کس کے غلام کو مارا۔مارنے والا بڑے آدمی کا غلام ہے اور مارا جانے والا چھوٹے آدمی کا غلام ہے اس صورت میں سزا کس طرح صلى الله دی جاسکتی ہے ، تو امتیاز نسل اور امتیاز مدارج ان میں انتہاء درجہ پر ترقی یافتہ تھا۔رسول کریم ﷺ آئے تو آپ نے یہ امتیاز ایسا مٹایا کہ آج کل با وجود تنزل کے، باوجود اس کے کہ مسلمانوں نے