خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 265

خطبات محمود ۲۶۵ سال ۱۹۳۵ء وارد کرتا اور پھر اسلام کے گھر میں پیدا ہوتا ہے۔وہ چھوڑ دیتا ہے اپنے آباء واجداد کو ، وہ چھوڑ دیتا ہے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو اور سب کچھ ترک کر کے اسلام کے گھر میں جنم لیتا ہے ، اسلام ہی اس کا باپ ہوتا ہے ، اسلام ہی اس کی ماں ہوتی ہے اور تمام کے تمام مسلمان اس کے بھائی اور بہنیں ہوتے ہیں اور ایک ماں باپ کی اولاد میں فرق تھوڑا ہو سکتا ہے۔انگریزی قوم اپنی فتوحات کی وسعت کے لحاظ سے اپنے آپ کو کتنا بڑا سمجھے لیکن اس میں کیا شبہ ہے کہ جب ایک انگریز احمدی ہوتا ہے تو اس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سارے غرور کو پیچھے چھوڑ کر آئے گا اور اب اپنے آپ کو مسلمانوں کا ایک بھائی سمجھے گا، ہندوؤں میں سے ایک برہمن جب اسلام لاتا ہے تو اس سے امید کی جاتی ہے کہ وہ آئندہ اپنے آپ کو صرف مسلمان سمجھے گا برہمن نہیں سمجھے گا، اسی طرح کوئی ہندوستانی ، افغانی ، چینی ، جاپانی یا روسی جب اسلام لاتا ہے تو وہ اپنی قومیت کو بھول جاتا ہے یہ نہیں کہ وہ اپنے ملک کی خدمت نہیں کرتا۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَانِ اور اسلام ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تمہارے قریب کے لوگ گندے ہوں تو ان کی زیادہ اصلاح کرو۔اس لحاظ سے اگر کوئی جاپانی جاپانیوں کی ، چینی چینیوں کی اور پٹھان پٹھانوں کی اصلاح کرتا ہے تو وہ اسلام کے خلاف نہیں بلکہ اس کے مطابق کرتا ہے لیکن یہ اصلاح اسی حد تک ہو کہ انسان عیوب دور کرے اور قوم کی گری ہوئی حالت کو درست کرے لیکن اگر وہ امتیاز کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ انگریز ہے اور یہ ہندوستانی ، یہ جاپانی ہے اور وہ چینی تو اس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ہماری جماعت میں بھی اللہ تعالیٰ نے اب اس نور کو قائم کیا ہے جسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آج سے تیرہ سو برس پہلے قائم کیا گیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اب یہی پیغام لے کر آئے ہیں کہ اپنے آپ کو صرف خدا تعالیٰ کا بندہ سمجھو اور چھوڑ دو ان باتوں کو کہ ہم مدراسی ہیں اور فلاں بنگالی، ہم برمی ہیں اور فلاں پنجابی۔ان چیزوں نے دنیا میں بڑے بڑے تفرقے پیدا کئے ہیں اور جب تک کسی کے دل میں اس قسم کا خیال رہے وہ حقیقتاً مسلمان نہیں ہو سکتا۔اسلام چاہتا ہے کہ وہ دنیا کو ایک چیز بنا دے اور ان امتیازات کی موجودگی میں ہم ایک چیز بن کس طرح سکتے ہیں۔ناممکن ہے کہ تم پانی لو اور اس سے مکان تیار کر سکو۔ممکن نہیں کہ تم اینٹیں کھاؤ اور اس طرح اپنی پیاس بجھا سکو۔جب کوئی متضاد پر وگرام اپنے سامنے ہو تو اس وقت کام کس طرح ہو سکتا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے دوکشتیوں پر پاؤں رکھا جائے۔مگر دو