خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 259

خطبات محمود ۲۵۹ سال ۱۹۳۵ء خوشی سے اُچھلیں اور کہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود دکھلاؤ اور جب ہم کہیں کہ وہ فوت ہو گئے تو وہ پوچھیں کہ اچھا ان کے شاگرد کہاں ہیں ؟ تو ہم انہیں کہیں کہ وہ بھی فوت ہو گئے احمدیوں کا یہ جواب سن کر وہ لوگ کیا کہیں گے۔اگر ایسا ہو تو وہ ہمارے مبلغوں کو کس حقارت سے دیکھیں گے کہ ان نالائقوں نے ہم تک پیغام پہنچانے میں کس قدر دیر کی ہے تو ہمیں پوری کوشش کرنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی موجودگی میں ہم ساری دنیا میں احمدیت کا پیغام پہنچا دیں تا ہر ایک کہہ سکے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ سے مصافحہ کیا ہے اور دنیا کے ہر ملک بلکہ ہر صوبہ میں بسنے والے لوگ اور ہر زبان بولنے والے اور ہر مذہب کے پیرو یہ کہ سکیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والوں کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے۔یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اس سے ہمیں دنیا کو محروم نہیں رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے ہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ کپڑوں میں برکت زیادہ ہوتی ہے بلکہ اس میں بتایا ہے کہ جب انسان نہ ملیں گے تو لوگ کپڑوں سے ہی برکت ڈھونڈیں گے ورنہ انسان کے مقابلہ میں کپڑے کی کیا حیثیت ہوتی ہے وہ کپڑا جو جسم کو لگا اُس ہاتھ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھ سکتا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ میں گیا اور وہیں پیوست ہو گیا آپ سے نور اور برکت لی اور آپ کے نور میں اتنا ڈوبا کہ خود نور بن گیا۔کبھی ممکن نہیں کہ ایسے ہاتھ کو چھونے سے تو برکت نہ ملے اور کپڑوں کو چُھونے سے ملے۔کپڑوں سے برکت ڈھونڈنے سے مراد تو حالت تنزل ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب لوگ آپ سے ملنے والوں کو ڈھونڈیں گے اور جب کوئی نہ ملے گا تو کہیں گے اچھا کپڑے ہی سہی اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے ایک وقت آئے گا کہ بادشاہ بھی آپ کے کپڑوں کے لئے ترسیں گے۔پس براہِ راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چھونے والے انسان ہمیشہ نہیں رہ سکتے اور ہم سے یہ اتنی بڑی غفلت ہو رہی تھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں جگا دیا۔احرار اور بعض حکام کی مخالفت کو گو ہم بُرا ہی کہیں مگر ہمارے دل کے گوشہ میں یہ بات ضرور ہے اور ہم اسے تسلیم کرنے پر مجبور ہیں کہ چاہے نادانستہ ہی کیا ہے مگر کیا تو ان لوگوں نے ہم پر رحم ہی ہے اس لئے اے خدا! تو بھی ان پر رحم کر اور ان کو ہدایت دے دے۔ہماری جماعت کے سامنے عظیم الشان کام ہے اس کی ذمہ داری بہت بڑی ہے ، موت انسان کے لئے لازمی ہے اور مؤمن موت سے نہیں