خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 260

خطبات محمود ۲۶۰ سال ۱۹۳۵ء ڈرتا مگر اس خیال سے ہی ہمارے دل کانپ جانے چاہئیں اور جسموں پر لرزہ طاری ہو جانا چاہئے کہ ہم دنیا کو ہدایت دینے سے پہلے فوت ہو جائیں اور دنیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہاتھ لگانے والوں کو بھی ہاتھ نہ لگا سکے اس لئے ان قربانیوں کے لئے تیار ہو جاؤ جو خدا ہم سے چاہتا ہے۔اب جو کچھ ہو رہا ہے یہ کچھ بھی نہیں۔ابھی بہت سے مراحل ہم نے طے کرنے ہیں۔پس سستیوں کو چھوڑ دو، غفلتوں کو ترک کر دو۔بعض لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ اس سال ہم نے چندہ دیدیا اب دنیا فتح ہو جائے گی مگر یہ چیزیں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔جس طرح دانہ کو کولھو میں ڈال کر پہیلا جاتا ہے، تم جب تک اسی طرح نہ پہلے جاؤ گے اُس وقت تک دنیا میں امن اور دین قائم نہیں ہوسکتا۔پس تم مطمئن مت ہو اور ان دُکھوں کو دکھ نہ سمجھو یہ تو صرف ہوشیار کرنے اور بیدار کرنے کے لئے ہیں اصل درد وہ ہے جو دل میں ہوتا ہے۔دیکھو! جس کے کپڑوں میں آگ لگی ہو وہ کس قدرشور مچاتا ہے پھر جس کے دل میں آگ لگی ہو وہ کس طرح آرام سے بیٹھ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایک جہنم میں ڈالنا چاہتا ہے اور ایسی بڑی جھنم کہ جس کی مثال کوئی نہیں وہ عشق و محبت اور دنیا کی خیر خواہی کی آگ ہے۔دیکھو! مجنوں عرب کا ایک معمولی سا رئیس زادہ تھا جس کی حیثیت اس زمانہ کے معیار کے مطابق شاید دس روپے کی بھی نہ ہو مگر عشق کی وجہ سے اسے ایسی شہرت ہوئی کہ کئی لوگ اس کا ذکر کرتے کرتے خود مجنوں بن جاتے ہیں ، فرہاد ایک معمولی لوہار تھا مگر اس عشق کی وجہ سے جو اُ سے ایک انسان سے تھا آج بادشاہ بھی شعروں میں اس کا ذکر پڑھتے اور سر دھنتے ہیں۔پس جس دل میں خدا کی محبت کی آگ ہو اُس کے اندر کتنا سوز ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے جو جہنم مقدر کر رکھی ہے وہ محبت کی جہنم ہے جو شخص اپنے دل میں یہ جھنم پیدا کر لے اسے خدا ہمیشہ کی جنت عطا کرتا ہے اور اگر تم یہ سوزا اپنے دلوں میں پیدا کر لو گے تو خود ہی قربانیاں کرتے جاؤ گے نہ تحریک جدید کی ضرورت ہو گی اور نہ تحریک قدیم کی۔جس کے کپڑوں میں آگ لگی ہو وہ خود بخو د دوڑا پھرتا ہے۔پس یہ رنگ پیدا کرو اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو یہ پہلا قدم ہے جو اسی پر ٹھہر جائے گا وہ گر جائے گا۔تمہارے لئے آرام سے بیٹھنا مقدر نہیں آرام خدا کی گود میں ہی جا کر ملے گا اور اس دھکے کے بعد جو جماعت کو لگا ہے جو سستی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے جماعت سے خارج کر دے گا۔اب وقت تمہارے لئے بہت نازک ہے اس لئے بہت احتیاط کرو۔اب تم ایسے مقام پر ہو کہ اس سے پیچھے قدم اُٹھانا