خطبات محمود (جلد 16) — Page 258
خطبات محمود ۲۵۸ سال ۱۹۳۵ء کوئی انتظام میرے ذہن میں بھی نہ تھا، تبلیغ ہند کا اس میں کوئی حصہ نہ تھا اور اب معلوم ہو رہا ہے کہ قرآن کریم کی طباعت کے لئے روپیہ کو علیحدہ کر کے بجٹ ساٹھ ہزار کا ہوگا اور قرآن کی طباعت کے اخراجات شامل کر کے ستر ہزار کا اور ظاہر ہے کہ جس کام کے شروع کرنے میں اتنا وقت لگے اُس کے نتائج بھی سالوں میں نکل سکتے ہیں بہر حال یہ شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جگا دیا ہے ورنہ ہماری نماز قضاء ہورہی تھی۔ذرا غور کر وتم پر اللہ تعالیٰ نے کتنا فضل کیا کہ اپنا مسح تمہیں دکھا یا پھر دنیا پر تمہیں کیا اتنا بھی رحم نہیں آتا کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ ہی اسے دکھا دو۔پچاس ساٹھ سال بعد یہ صحابہ ہم میں نہ ہوں گے غور کرو یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ ہم دنیا کو جا کر جب آپ کا پیغام سنائیں اور لوگ پوچھیں کہ وہ کہاں ہیں تو ہم کہہ دیں وہ فوت ہو گئے۔اور جب وہ پوچھیں کہ کون لوگ ہیں جو آپ کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے تو کہہ دیں کہ وہ بھی فوت ہو گئے مجھے یہ واقعہ کبھی نہیں بھولتا میں جب انگلستان میں گیا تو وہاں ایک بوڑھا انگریز کو مسلم تھا اسے علم تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بیٹا اور خلیفہ ہوں مگر پھر بھی وہ نہایت محبت و اخلاص سے کہنے لگا کہ میں ایک بات پوچھتا ہوں آپ ٹھیک جواب دیں گے؟ میں نے کہا ہاں۔وہ کہنے لگا کیا حضرت مسیح موعود نبی تھے میں نے کہا ہاں تو اس نے کہا اچھا مجھے اس سے بڑی خوشی ہوئی۔پھر کہنے لگا آپ قسم کھا کر بتائیں کہ آپ نے انہیں دیکھا ؟ میں نے کہا ہاں میں ان کا بیٹا ہوں۔اس نے کہا نہیں میرے سوال کا جواب دیں کہ ان کو دیکھا ؟ میں نے کہا ہاں دیکھا۔تو وہ کہنے لگا کہ اچھا میرے ساتھ مصافحہ کریں اور مصافحہ کرنے کے بعد کہا مجھے بڑی ہی خوشی ہوئی کہ میں نے اس ہاتھ کو چھوا جس نے مسیح موعود کے ہاتھوں کو چھوا تھا اب تک وہ نظارہ میرے دل پر نقش ہے وہ شخص گزشتہ سال ہی فوت ہوا ہے اُسے رؤیا اور کشوف بھی ہوتے تھے اور وہ اس پر فخر کرتا تھا کہ اسلام لانے کے بعد اسے یہ انعام ملا ہے۔تو مجھے اس کی یہ بات کبھی نہیں بھولتی کہ کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو دیکھا ہے اور جب میں نے کہا ہاں تو کہا کہ مجھے بڑی ہی خوشی ہوئی ہے میں نے آپ کو دیکھا ہے۔مجھے اس خیال سے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ وہ لاکھوں انسان جو چین ، جاپان، روس، امریکہ، افریقہ اور دنیا کے تمام گوشوں میں آباد ہیں اور جن کے اندر نیکی اور تقویٰ ہے ان کے دلوں میں خدا کی محبت ہے مگر ان کو ابھی وہ نور نہیں ملا کہ ہم ان تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام پہنچائیں اور وہ