خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 169

خطبات محمود ۱۶۹ سال ۱۹۳۵ء ان کے ساتھ فلاں موقع پر ہم نے یہ کیا اور فلاں موقع پر یہ کیا اور ان سے کہیں کہ ان میں سے ایک بات کا بھی انکار کر دیں انہوں نے تسلیم کیا کہ میں سمجھ گیا ہوں اب میں ان کی سفارش نہیں کروں گا اور ان کو جا کر ڈانٹا اور اس جھگڑے کی صلح صفائی کرا دی۔ہمارا سلوک ایسا ہے کہ گو کوئی ہمیں ظالم ہی کہے لیکن دلوں میں ہماری خوبی کو مانتے ہیں۔اب بھی ان لوگوں کو کوئی مصیبت پیش آئے تو امداد کے لئے ہمارے پاس آتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ظالم کے پاس مدد کے لئے کوئی نہیں جایا کرتا۔ہماری عادت یہ نہیں کہ نام ظاہر کریں لیکن اگر ضرورت ہو تو میں ثابت کر سکتا ہوں کہ ہم نے ہندوؤں ، سکھوں اور غیر احمد یوں سب کی مدد کی ہے۔انہیں وظائف دیئے ہیں، کپڑے دیئے ہیں ، روپے دیئے ہیں اور اگر ضرورت ہو تو ان لوگوں کو سامنے بٹھا کر میں اقرار کر سکتا ہوں کہ تم لوگوں کی فلاں فلاں مدد کی گئی یا نہیں۔۱۹۲۸ء میں جب میں ڈلہوزی گیا تو قادیان کے لالہ شرمپت صاحب کے لڑکے لالہ گوکل چند صاحب تحصیلدار جو فوت ہو چکے ہیں ، وہ بھی وہاں گئے ، ہمارے ساتھ کی کوٹھی میں گجرات کے ایک رئیس جو غالباً آنریری مجسٹریٹ بھی تھے مقیم تھے ، لالہ گوکل چند صاحب دو چار روز کے لئے ہی وہاں گئے تھے اور ان کے ساتھ تعلقات تھے اس لئے ان کے ہاں ہی ٹھہرے۔ایک دن مجھے ملنے آئے تو کہا کہ آپ کو ایک بات بتاتا ہوں میں نے اپنے میزبان سے کہا تھا کہ آپ مرزا صاحب سے ابھی تک کیوں نہیں ملے تو وہ کہنے لگے کہ وہ تو اس قدر ظالم اور متعصب ہیں ، ان سے میں کیسے مل سکتا تھا۔وہ ہندوؤں سے بہت تعصب رکھتے ہیں۔اس پر میں نے ان سے کہا کہ میں تو قادیان کا رہنے والا ہوں میں خوب جانتا ہوں کہ یہ سب باتیں جھوٹی ہیں۔اس پر وہ حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ اچھا یہ بات ہے۔بہر حال جو انصاف کرنے والا ہے وہ خواہ کتنا بدنام ہو جائے مگر پھر بھی کامیاب وہی ہوتا ہے اب بھی ہمارے خلاف بہت شور ہے مگر اب بھی میں ایسی تحریریں دکھا سکتا ہوں کہ کوئی جھگڑا ہو تو کہتے ہیں آپ فیصلہ کر دیں۔ہم بار بار کہتے ہیں کہ عدالت میں جاؤ مگر کہتے ہیں کہ نہیں آپ ہی فیصلہ کر دیں۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں اس زمانہ میں اس بات کی توفیق ملی ہے کہ انصاف قائم کریں گو اس وقت بدنام ہیں مگر یہ بدنامی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی دلوں میں ہماری قد ر خدا کے فضل سے ہے۔مجھے ایک دوست نے سنایا کہ ٹریبیون میں جب میری وفات کی غلط خبر شائع ہوئی تو ایک مخالف نے مجھے فون کیا کہ سناؤ کوئی خبر قادیان کے متعلق ہے مجھے چونکہ کئی لوگ پہلے بھی پوچھ چکے تھے اور مجھے