خطبات محمود (جلد 16) — Page 168
خطبات محمود ۱۶۸ سال ۱۹۳۵ء یہی معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ سے کبھی ترقی اور کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے واللہ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِینَ جب کوئی قوم اپنی قوت کا ناجائز استعمال کرتی ہے تو تباہ ہو جاتی ہے۔اس کے متعلق اپنی جماعت کو یہ نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ اس بات کا خاص خیال رکھیں ہم اس وقت کمزور ہیں لیکن کہیں ہمیں بھی قوت اور طاقت حاصل ہوتی ہے۔کوئی احمدی بڑا زمیندار یا تاجر یا کوئی افسر ہوتا ہے جہاں بھی ایسا ہو، چاہئے کہ اپنی طاقت کا صحیح استعمال کیا جائے۔میں دعوئی سے کہہ سکتا ہوں کہ سارے ہندوستان میں کوئی ایسا زمیندار نہیں ہوگا جو اپنے مزارعین اور کسانوں سے ایسا سلوک کرے جو ہم یہاں کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی مالکان میں سے سارے ملک میں شاید کوئی اتنا بد نام نہیں ہو گا جتنا ہم ہیں۔ہم تو قادیان کے واحد مالک ہیں لیکن کسی اور گاؤں میں جا کر دیکھ لو کوئی زمیندار چوتھے حصے کا ہی مالک کیوں نہ ہو کیا مجال جو اُس کے خلاف کوئی بات کر سکے مگر ہمارے سامنے سب بولتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے قریب کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ بندوبست کا کوئی تحصیلدار یا کوئی افسر یہاں آیا میں اُس زمانہ میں ابھی پڑھ رہا تھا ، اس محکمہ کا شاید کوئی قاعدہ ہے کہ مالیہ وغیرہ کے متعلق کسی کو اعتراض ہو تو دریافت کر لیتے ہیں شاید ایسی ہی کوئی بات تھی یا کوئی اور بات تھی اور افسر یہاں آیا ہوا تھا مجھے بھی بلایا گیا تو ایک مزارع مجھے دیکھ کر کہنے لگا کہ جی! ان کو کیا پوچھتے ہو ان کا تو روپیہ میں ایک آنہ ہی ہے۔کیا کہیں کوئی اور جگہ ہے جہاں کسان اس طرح بول سکیں حالانکہ جیسا سلوک ان لوگوں سے ہم یہاں کرتے ہیں ویسا اور کوئی نہ کرتا ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ یہاں ایک مجسٹریٹ آیا اور آپ سے یہاں کے ہندوؤں کے متعلق ذکر کیا کہ وہ کچھ شا کی ہیں آپ نے ہندوؤں کو بلایا اور اس کے سامنے ان پر اپنی نوازشیں گنوانی شروع کیں۔آپ نے بتانا شروع کیا کہ ہم نے ان لوگوں کے لئے یہ کیا ، یہ کیا اور فرمایا کہ یہ لوگ سامنے بیٹھے ہیں ان سے کہیں انکار کر دیں۔بڑھے شاہ وغیرہ سب بیٹھے تھے مگر کسی کو انکار کی جرأت نہ ہوئی۔اسی طرح یہاں کے ہندوؤں میں ایک دفعہ کچھ شورش ہوئی جو دراصل ان سب شورشوں کا پیش خیمہ ہے، ان دنوں بٹالہ کے ایک تحصیلدار جن کا نام شاید دیوان چند تھا یہاں آئے اور کہا کہ میں بطور سفارش آپ کے پاس آیا ہوں آپ ان کی شکایات کا خود ہی علاج کر دیں۔میں نے ان کے سامنے وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام والاطریق پیش کیا اور بتایا کہ