خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 170

خطبات محمود 12 • سال ۱۹۳۵ء غصہ چڑھا ہوا تھا اس لئے میں نے اسے کہا کہ چُپ رہو مگر اس نے کہا کہ نہیں میں بدنیتی سے نہیں پوچھتا بتاؤ کیا بات ہے مگر مجھے چونکہ غصہ تھا اس لئے میں نے پھر کہا کہ چُپ رہو مگر اس نے کہا کہ خدا کے لئے بتاؤ کیا بات ہے مجھے فکر ہے اس لئے پوچھتا ہوں اور جب میں نے بتایا تو اس نے ذرا پرے ہو کر کہا جس کی مجھے آواز آئی کہ الْحَمْدُ لِلو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخالفوں کے دلوں میں بھی ہماری قدر ہے، تم کبھی یہ خیال بھی نہ کرو کہ ظلم کا میاب ہوسکتا ہے۔اگر چہ اس وقت ہمیں بدنام کیا جا رہا ہے مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ یہ ہمیں دیتے ہیں تو خیال کرتے ہیں کہ سب کچھ کیوں نہیں دیتے مگر جب انہیں معلوم ہوگا کہ رحم اور انصاف کی کیا حدود ہیں تو ضرور نادم ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے تو ہندو، سکھ، غیر احمدی سب رور ہے تھے حالانکہ زندگی میں یہی لوگ آپ کو گالیاں دیا کرتے تھے۔میں نے اس وقت جماعت کو ایک گر بتا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو بھی ہدایت نہیں دیتا اس لئے اپنے اعمال میں ظلم مت پیدا ہونے دو۔اپنے رویہ میں نرمی رکھو۔اللہ تعالی دولت دے تو تمہارے اندر انکسار پیدا ہو، علم سے تو اضع پیدا ہو اور وہ تمہیں جتنا اونچا کرے اُسی قدر جھکو اور کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے اس کے بندوں کو فائدہ پہنچاؤ۔بادشاہ کی دولت رعایا کے لئے ہوتی ہے اور ملک کہہ کر اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ ہم تمہیں جو کچھ دیں گے بادشاہ کر کے دیں گے تاتم دوسروں کو فائدہ پہنچا ؤ، قدوسیت اس واسطے دیں گے کہ دوسروں کو پاک کرو، عزیز بنائیں گے تا دوسروں کو بڑا کر و عزیز اسے بھی کہتے ہیں جو دوسروں کو ذلیل نہ کرے ، ہم تمہیں حکمت دیں گے مگر اس لئے کہ دوسروں کو سکھاؤ۔جس پانی کو نکلنے کا رستہ نہ ہو وہ سڑ جاتا ہے پس ہم تمہیں علم دیں گے لیکن اگر اس سے دوسروں کو فائدہ نہ پہنچاؤ گے تو یہ سڑ کر تمہارے دماغ میں تعفن پیدا کر دے الفضل ۱۲ / مارچ ۱۹۳۵ء) گا۔الجمعة : ٣ الجمعة : ٢ البقرة : ٦ الجمعة: ٣ ۵ ترمذی کتاب البر والصلة باب ماجاء في الاقتصاد في الْحُبّ وَالْبُغْضِ۔بخاری كتاب الدعوات باب ما يقول إِذَا اتى أَهْلَهُ۔ك الجمعة : ۴