خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 141

خطبات محمود ۱۴۱ سال ۱۹۳۵ء ایک مقدمہ ایک احمدی مجسٹریٹ کے پاس ہے مجھے رشتہ داروں نے کہا تھا کہ قادیان میں جا کر سفارش کراؤ۔میں نے انہیں کہا بھی کہ یہ فضول بات ہے اگر وہ مجسٹریٹ احمدی ہے تو خود ہی انصاف کرے گا کسی سفارش کی کیا ضرورت ہے مگر وہ نہ مانے اور میں یہاں چلا آیا۔یہاں آ کر بھی لوگوں نے یہی بتایا کہ وہ احمدی ہی کیسا ہے جو انصاف نہیں کرے گا ان باتوں سے اب میری تسلی ہوگئی ہے اور میں نے سفارش کرانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔مقدمہ میں پھنسے ہوئے لوگوں کی عقل کس قدر پراگندہ ہو جاتی ہے مگر ایسے مجبور آدمی کا بھی یہ سمجھ جانا کہ احمدی حج انصاف کرے گا بتا تا ہے کہ اسے یہ محسوس ہوا کہ اس جماعت میں قدوسیت ہے ورنہ اگر اسے احمدیوں سے ذاتی واقفیت نہ ہوتی تو وہ ضرور اصرار کرتا کہ میری سفارش کر ولیکن چونکہ وہ احمدیوں کے حالات سے واقف تھا اس لئے باوجود اس کے کہ وہ دور سے چل کر آیا تھا کہنے لگا کہ اب میری تسلی ہو گئی۔تو احمدیت کے ساتھ قدوسیت یا ایمان کے ساتھ قدوسیت ایک لازمی چیز ہے۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں انسان کتنی ہی اپنے آپ میں کمزوریاں دیکھے، دنیا کے مقابلہ میں فسڈوس ہو گا۔صرف فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نسبت سے قدوس ہے اور مؤمن نسبتی طور پر قدوس ہوتا ہے۔جب مؤمن کی خدا تعالیٰ کی طرف نگاہ اٹھتی ہے تو وہ اپنے آپ کو کمزوریوں سے کر پاتا ہے مگر جب بندوں کی طرف دیکھتا ہے تو اپنے آپ کو قدوس سمجھتا ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ عزیز ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے بندے عزیز نہیں ان کے اندر بھی استقلال ہو ان کے اند بھی غیر معمولی مضبوطی اور پختگی ہو اور گو میں ہمیشہ شکایت کرتا ہوں کہ ہماری جماعت میں استقلال نہیں مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ جو ہماری جماعت میں مؤمن ہیں وہ استقلال کا بہترین نمونہ ہیں۔دنیا وی انجمنیں قائم ہوتی ہیں تو کوئی ایک مہینہ تک کام کرتی ہے کوئی دو مہینہ تک اور کوئی زیادہ کام کرے تو سال دو سال تک کام کرتی رہے گی مگر آخر تھک کر رہ جائے گی۔پھر ان انجمنوں میں آج ایک کام کرتا ہے تو گل دوسرا اور اگر ہیں تمہیں سال بھی کوئی انجمن قائم رہی تو اس کے کارکن ہمیشہ بدلتے رہے مگر بجز جماعت احمد یہ ایسی جماعت ہندوستان میں اور کونسی نظر آ سکتی ہے جو پچاس سال سے متواتر قربانیاں کرتی چلی آ رہی ہو۔اگر کسی کو احمدیت میں داخل ہوئے پچاس سال ہوئے ہیں تو وہ پچاس سال سے قربانیاں کر رہا ہے، اگر کسی کو احمدیت میں داخل ہوئے چالیس سال ہوئے ہیں تو وہ چالیس سال سے قربانیاں کر رہا ہے،