خطبات محمود (جلد 16) — Page 140
خطبات محمود ۱۴۰ سال ۱۹۳۵ء پوچھتے ہیں ” دس مغلیا اساں ایہ چیز چرائی ہے تو میں پھر بیچ بولتا اور کہتا ہوں۔لی تو ہے۔اس پر وہ پھر مارنے لگ جاتے ہیں۔باپ الگ ناراض ہوتا ہے کہ کوئی ایسا بھی احمق ہوتا ہے جو اپنے بھائیوں کو نقصان پہنچائے پس کہنے لگا میرا تو یہی حال ہوتا ہے۔جس دن میرے بھائی گھر میں کوئی مال پُچر ا کر لاتے ہیں میں کہتا ہوں اب میری ہڈیوں کی خیر نہیں۔پھر وہ کہنے لگا کبھی میں پیچھا چھڑانے کے لئے یہ بھی کہہ دیا کرتا ہوں کہ میں تو تمہارے نزدیک کافر ہوں میری گواہی کا کیا اثر ہوسکتا ہے۔اس پر وہ کہتے ہیں تو ہے تو کا فرمگر بولتا سچ ہے۔غرض احمدی مرتد بھی کہلاتے ہیں، بے دین بھی کہلاتے ہیں، یہ بھی سنتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں۔تم رسول اللہ ﷺ کی ہتک کرنے والے ہو مگر پھر بھی لوگ ان کے متعلق یہ کہنے سے نہیں رہ سکتے کہ احمدی سچ بولتے ہیں۔یہ زندہ مثال اس بات کی ہے کہ مؤمن قدوس ہوتا ہے دنیا ایک سانس میں اسے بُرا کہتی ہے اور دوسرے سانس میں اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہوتی ہے لوگ ایک طرف سارے عیوب اس کی طرف منسوب کرتے ہیں اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر دیانتدار کوئی نہیں اور نہیں سوچتے کہ کیا ساری دیانت گفر میں رہ گئی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کبھی مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک قدوس نہ بنو۔دشمن سے بھی اگر پوچھا جائے تو وہ کہے کہ ہے تو یہ کا فراور پلید مگر اس کی بات پر میں اعتبار کرتا ہوں۔تھوڑے ہی دن کی بات ہے ایک غیر احمدی یہاں آیا اس کا مقدمہ کسی احمدی مجسٹریٹ کے پاس تھا لوگوں نے اسے کہا کہ قادیان سے جا کر سفارش کراؤ تا مقدمہ کا فیصلہ تمہارے حق میں ہو۔جب وہ یہاں آیا تو کسی نے اسے بتایا کہ سفارش کے کیا معنی ہیں۔مجسٹریٹ سرکار سے اسی بات کی تنخواہ لیتے ہیں کہ انصاف کریں پھر احمدی جو ہوتا ہے، اس کا خصوصیت سے یہ فرض ہوتا ہے کہ انصاف کو کسی لمحہ بھی اپنے ہاتھ سے نہ جانے دے، پھر سفارش کی کیا ضرورت ہے کیا تم سمجھتے ہو کہ اس مجسٹریٹ کو یہاں سے بد دیانتی کرنے کی تعلیم دی جائے گی ؟ چونکہ اس کا پہلے بھی احمدیوں سے واسطہ پڑتا رہتا تھا اس لئے یہ بات اس کی سمجھ میں آگئی اور جب وہ میرے پاس آیا تو کہنے لگا میں آیا تو کسی اور مقصد کے لئے تھا مگر لوگوں نے مجھے بتایا ہے کہ وہ بات پیش کرنی مناسب نہیں اس لئے اب میں وہ بات تو پیش نہیں کرتا صرف درخواست کرتا ہوں کہ دعا کریں اگر احمدیت کچی ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس میں داخل ہونے کی توفیق عنایت فرمائے۔پھر اُس نے خود ہی ذکر کیا کہ میرا