خطبات محمود (جلد 16) — Page 138
خطبات محمود ۱۳۸ سال ۱۹۳۵ء کمزورونا تو اں اور مسکین ہیں حالانکہ قرآن مجید کہتا ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے مؤمن بندے ہو تو تم غریب نہیں بلکہ ملک ہوا اور ملک بھی وہ جس کی تسبیح کی جائے اور اگر تم سچے مؤمن ہو تو تم قُدوس ہو اور قدوس بھی وہ جس کی تسبیح کی جائے اسی طرح اگر تم سچے مومن ہو تو تم عزیز اور حکیم ہو اور عزیز اور حکیم بھی وہ جس کی تسبیح کی جائے۔ہو سکتا ہے کوئی بادشاہ ہو اور اس کی رعایا اسے بادشاہ نہ مانے جیسے پرانے زمانے میں کئی بادشاہ بھاگے بھاگے پھرتے تھے اور انہیں رعایا میں سے کوئی شخص بادشاہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا تھا۔مثلاً ہمایوں کے متعلق ہی لکھا ہے کہ وہ بھاگ کر ایران پہنچا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مؤمن خواہ کتنا ہی غریب اور کتنا ہی کمزور نظر آئے ، کتنا ہی ضعیف اور کنگال کیوں نہ ہوا گر وہ سچا مؤمن ہے تو ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مسلک ہو اور آسمان پر ایک بادشاہ کی حیثیت میں اس کا نام لکھا گیا ہو۔تم کہہ سکتے ہو کہ ہم کیونکر یہ تسلیم کریں کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہماری حیثیت ایک بادشاہ کی سی ہے۔میں اس کی تشریح کے لئے تمہیں قرآن مجید کی ایک آیت اور ایک حدیث کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔قرآن مجید میں یہ ذکر آتا ہے کہ ادنیٰ سے ادنی مؤمن کو بھی جنت میں جو مقام حاصل ہوگا عَرْضُهَا السَّمواتِ وَالْاَرْضِ کے اس کی قیمت زمین و آسمان کے برابر ہے۔رسول کریم ﷺ نے بھی اس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ ادنیٰ سے ادنی درجہ کے مؤمن کو بھی جو جگہ جنت میں ملے گی وہ زمین و آسمان کے برابر ہو گی سلام گر ایک ضلع کا حاکم ہو کر کوئی شخص بادشاہ کہلا سکتا ہے، اگر ایک ملک کا حاکم ہو کر کوئی شخص بادشاہ کہلا سکتا ہے اور اگر دو یا تین ملکوں کا حاکم ہو کر کوئی شخص بادشاہ کہلا سکتا ہے تو جس کے متعلق خدا تعالیٰ کہے کہ اُسے زمین و آسمان دے دیا جائے گا وہ کیوں بادشاہ نہیں ہوسکتا۔معلوم ہوا کہ کوئی مؤمن اُس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ بادشاہ نہ بنے۔پس ہر مؤمن بادشاہ ہے اور پھر ہر مؤمن قدوس بھی ہے اس میں شبہ نہیں کہ انسان خواہ کتنے بڑے بلند مقامات حاصل کر لے اور انتہائی کمالات تک پہنچ جائے ، اس کا مقام خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہوئے یہی ہے کہ وہ کہے میں کمزور اور گناہگار ہوں۔اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کے مقابلہ میں میری قدوسیت کی کچھ حقیقت ہی نہیں لیکن ادنیٰ سے ادنی مؤمن کو بھی ایسی پاکیزگی ضرور حاصل ہونی چاہئے کہ دنیا اسے دیکھ کر کہے کہ یہ نیک آدمی ہے اور اس کی بات پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔اگر دنیا اس کی بات پر اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں تو معلوم ہوا کہ اس کا ایمان مشتبہ ہے۔میں نے دیکھا ہے