خطبات محمود (جلد 16) — Page 137
خطبات محمود ۱۳۷ سال ۱۹۳۵ء زمین و آسمان کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہا ہے (فرموده ۲۲ فروری ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں سورہ جمعہ کی پہلی آیت يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ کے متعلق یہ بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ملک ہونے کی تیج اور قدوس ہونے کی تسبیح اور عزیز ہونے کی تسبیح اور حکیم ہونے کی تسبیح سے مراد کیا ہے کس طرح ان امور میں خدا تعالیٰ کی تسبیح کی جاتی ہے اور اس تسبیح کے ذکر کرنے سے اس کا مقصد کیا ہے۔وہ مقصد میں نے یہ بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے چاہتا ہے کہ وہ بھی ایسے ہی ملک بنیں جن کی تسبیح کی جائے ، ایسے ہی قدوس بنیں جن کی تسبیح کی جائے ، ایسے ہی عزیز بنیں جن کی تسبیح کی جائے اور ایسے ہی حکیم بنیں جن کی تسبیح کی جائے ، اخلاقی طور پر جب تک انسان تسبیح والا ملک نہیں بنتا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ تسبیح والا قدوس نہیں بنتا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ تیج والا عزیز نہیں بنتا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ تسبیح والا حکیم نہیں بنتا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث نہیں ہو سکتا۔اس امرکوز ہن میں رکھتے ہوئے کتنی ضروری یہ بات ہو جاتی ہے کہ ہر مؤمن ملک بھی ہو، ہر مؤمن قُدوس بھی ہو، ہر مؤمن عزیز بھی ہو اور ہر مؤمن حکیم بھی ہو۔کتنا بلند مقام ہے جو ہمارے رب نے ہمارے سامنے رکھا ہے لیکن بالعموم لوگوں سے جب ذکر ہو تو وہ کہہ دیا کرتے ہیں جی ! ہم تو غریب ہیں