خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 139

خطبات محمود ۱۳۹ سال ۱۹۳۵ء احمد یوں میں سے بعض لوگ اپنے علاقوں میں مقہور اور ذلیل سمجھے جاتے ہیں لیکن جب کبھی معاملے کا وقت آتا ہے تو لوگ ان کی گواہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ہماری جماعت کا ایک غریب آدمی تھا مجھے معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس نے بیعت کی تھی یا نہیں مگر حضرت خلیفہ اول کے ابتدائی زمانہ میں وہ یہاں آیا کرتا تھا اُس کا نام مغلا تھا اور وہ جھنگ کی طرف کا رہنے والا تھا اس کے رشتہ دار سب چوریاں کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت دی اور وہ احمدی ہو گیا۔بہت مسکین اور غریب احمدی تھا جب بھی وہ یہاں آتا تو بتا تا کہ احمدیت کی وجہ سے اسے لوگ بہت مارتے ہیں۔ایک دفعہ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے بھائی بھی تمہاری مدد نہیں کرتے ؟ وہ کہنے لگا بھائی تو مجھے زیادہ مارتے ہیں۔پھر اس نے سنایا کہ ہمارے ہاں عام طور پر لوگ جانوروں کی چوری کرتے ہیں۔یہ مرض جھنگ ، گجرات ، گوجرانوالہ اور شیخو پورہ کے اضلاع میں بہت پھیلا ہوا ہے۔وہ لوگ جانوروں کی چوری کو کوئی ذلیل کام تصور نہیں کرتے بلکہ ایک قسم کا مقابلہ سمجھتے ہیں اور اگر ایک کے جانور چوری ہو جائیں تو وہ موقع پا کر چوری کرنے والے کے جانور چرا کر لے آتا ہے۔چونکہ مغلا کے بھائی وغیرہ بھی چوریاں کیا کرتے تھے اس لئے با وجو د غریب ہونے کے چوریوں کی وجہ سے اپنے علاقہ میں با اثر سمجھے جاتے تھے۔اس نے بتایا کہ جب سے میں احمد کی ہوا ہوں ، سارا علاقہ مجھے کا فر کہتا ہے مگر جب کسی کے ہاں چوری ہوتی ہے تو انہیں میرے بھائیوں پر قبہ ہو جاتا ہے۔جب وہ آتے ہیں تو میرے بھائی قسمیں کھانے لگ جاتے ہیں کہ ہم نے چوری نہیں کی قرآن تک اٹھا لیتے ہیں مگر لوگ ان کی بات پر اعتبار نہیں کرتے اور نہ قسموں کا یقین کرتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ مغلا اگر کہہ دے کہ تم نے چوری نہیں کی تو ہم مان جائیں گے اس پر میرے بھائی میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کے مغلیا ! اب ہماری عزت تیرے ہاتھ میں ہے۔اگر تو یہ کہہ دے کہ انہوں نے چوری نہیں کی تو وہ مان جائیں گے مگر میں کہتا ہوں یہ تو جھوٹ ہوگا میں کس طرح کہوں کہ آپ لوگوں نے چوری نہیں کی جبکہ واقع میں چوری کر کے ان کا مال لائے ہیں۔کیا میں سچ بولنا چھوڑ دوں ؟ اس پر وہ یہ کہتے کہ ”سچ کا کچھ لگتا اور مارنے پیٹنے لگ جاتے ہیں۔دوسرے فریق کو جب پتہ لگتا کہ مغلا کو محض اس کے سچ بولنے پر مارا جارہا ہے تو وہ اور زیادہ اصرار کرنے لگ جاتا کہ اگر مغلا کہے گا تو ہم مانیں گے ورنہ نہیں مانیں گے۔اس پر وہ پھر میری طرف آتے ہیں اور مجھے مارنے پیٹنے لگ جاتے ہیں اور جب مار پیٹ کر الگ ہوتے ہیں اور