خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 78

خطبات محمود ۷۸ سال ۱۹۳۴ء۔ایک نے فساد کرنے کی نیت سے اُس وقت جب سکول کے لڑکے بازار سے گزر رہے تھے اپنی مٹھائی کا تھال اُٹھا کر پھینک دیا اور شور مچادیا کہ میری دُکان انہوں نے لوٹ لی ہے۔وہ واقعہ تو خداتعالی کے فضل سے دب گیا مگر میں نے لڑکوں کو اس طرف سے گزرنے سے روک دیا۔اس سے بعض لوگوں کو اور غصہ آیا اور ایک دن ایک فسادی نے احمدیہ بورڈنگ میں آکر بڑے زور سے شور مچادیا کہ بازار میں ہندوؤں کی احمدیوں سے لڑائی ہو گئی ہے کئی آدمی مارے گئے اور کئی زخمی ہو گئے ہیں اور نیر صاحب خون میں تڑپ رہے ہیں۔مجھے معلوم نہیں نیر صاحب اُس وقت کیا کام کرتے تھے۔غالبا بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ تھے یا قریب کے عرصہ میں سپرنٹنڈنٹ رہ چکے تھے اور لڑکوں سے ان کا تعلق تھا۔پس اس نے لڑکوں میں ایک جوش پیدا کرنے کیلئے نیر صاحب کا نام لے دیا اور کہا کہ وہ تو زخمی ہو کر خون میں تڑپ رہے ہیں۔نوجوانوں میں چونکہ اتنی سمجھ ہوتی نہیں کہ وہ ہر بات کی تحقیقات کرلیں یا ان لوگوں کے پاس بات کو پہنچائیں جن کے سپرد خدا تعالیٰ نے سلسلہ کا کام کیا ہوا ہوتا ہے اس لئے وہ یہ سنتے ہی بازار کی طرف دوڑ پڑے۔اب جن کے ذہن میں یہ بات سمائی ہو کہ ہندوؤں نے ہمارے آدمیوں کو قتل کردیا ہے، وہ اگر جوش کی حالت میں کسی اپنے آدمی کی لاش کو نہ دیکھیں گے تو وہ اور زیادہ جوش سے بھر جائیں گے۔اور خیال کریں گے کہ شاید ان لوگوں نے لاشوں کو کہیں چھپا دیا یا جلا دیا ہے۔اتفاق ایسا ہوا کہ جس وقت لڑکے ہندو بازار کی طرف بھاگے جارہے تھے۔اُس وقت میں اس دالان میں آیا ہوا تھا جہاں حضرت اماں جان رہتی ہیں اور اسکی کھڑکی گلی میں کھلتی ہے۔میں نے جو بے اختیار لوگوں کے دوڑنے کی آواز سُنی تو کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔سب سے آگے مولوی رحمت علی صاحب جو آپ ہمارے سماٹرا اور جاوا میں مبلغ ہیں، روڑے جارہے تھے اور ان کے پیچھے اور بہت سے لڑکے تھے۔میں نے انہیں آواز دی کہ مولوی صاحب! کیا ہوا؟ اُس وقت وہ نصف گلی تک پہنچ چکے تھے۔میں نے دیکھا کہ اُن کا رنگ زرد تھا، چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں اور تھر تھر کانپ رہے تھے۔میرے پوچھنے پر کہنے لگے بازار میں ہندوؤں سے لڑائی ہو گئی ہے، ہمارے کئی آدمی مارے گئے ہیں اور نیر صاحب بھی خون میں تڑپ رہے ہیں۔میں نے کہا اگر لڑائی ہوئی ہے تو یہ میرا فرض ہے کہ میں وہاں آدمی بھجواؤں تم میں سے کوئی آگے مت بڑھے۔میرے اس کہنے پر وہ کھڑے تو ہو گئے مگر بڑی لجاجت سے کہنا شروع کر دیا۔حضور! وہاں