خطبات محمود (جلد 15) — Page 79
خطبات محمود 29 سال ۱۹۳۴ء لڑائی ہو رہی ہے اور احمدی مارے جارہے ہیں۔میں نے کہا اس کا انسداد کرنا میرا کام ہے تمہارا نہیں۔اس پر میں نے کسی سے کہا وہ جائے اور جا کر پتہ لگائے کہ اصل واقعہ کیا ہے؟ مگر میں نے جونہی منہ موڑا پھر یکدم دوڑنے کی آواز آئی۔دیکھا تو مولوی صاحب اور دوسرے لڑکے پھر بے اختیار بازار کی طرف دوڑے جارہے تھے۔میں نے پھر آواز دی کہ مولوی صاحب! ٹھہر جائیں مگر انہوں نے نہ سنی۔پھر آواز دی مگر انہوں نے پھر نہ سنی۔یہاں تک کہ وہ میاں بشیر احمد صاحب کی گلی کے اُس نکڑ پر پہنچ گئے جہاں سے بڑی مسجد کو راستہ مڑتا ہے۔میں نے خیال کیا کہ اگر اب بھی یہ نہ رکیں گے تو اس کے بعد مجھے یہی آواز سنائی دے گی کہ اتنے ہندو مار دیئے گئے ہیں اس لئے میں نے یہ سمجھ کر کہ اب ان کے اخلاص کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ہی چارہ باقی ہے زور سے آواز دی کہ مولوی صاحب! اگر آپ نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا تو میں آپ کو جماعت سے خارج کردوں گا۔اس پر وہ رُک تو گئے مگر بار بار یہی کہتے جاتے تھے کہ حضور! ہمارے آدمی مارے جارہے ہیں۔حضور! ہمارے آدمی مارے جارہے ہیں۔اتنے میں جس شخص کو میں نے بھیجا تھا وہ بھی واپس آگیا اور اُس نے آکر بتایا کہ بالکل بریت ہے نہ لڑائی ہوئی اور نہ کوئی زخمی ہوا بلکہ میں دریافت کر آیا ہوں نیر صاحب گھر میں آرام سے بیٹھے ہیں۔اس کے بعد میں نے پتہ لگوایا کہ میرے پہلی دفعہ منع کرنے کے باوجود یہ لوگ کیوں دوڑ پڑے تھے تو مجھے معلوم ہوا کہ ایک مفسدہ پرداز میری نظروں سے چُھپ کر گلی کے ایک کونہ میں کھڑا تھا اور جب یہ رُک گئے تو اس نے کہا ارے دوڑتے کیوں نہیں لوگ تو مارے جارہے ہیں اور تم یہاں کھڑے ہو اس پر وہ پھر بے تحاشا دوڑ پڑے۔تو اس کے لوگ بھی شرارت آمیز خبریں پھیلا دیا کرتے ہیں اور یہ لوگ جماعت میں سے بھی ہو سکتے ہیں اور جماعت کے علاوہ بھی۔قرآن مجید پڑھ کر دیکھ لو۔اس کے مطالعہ سے تمہیں معلوم ہو گا کہ منافق ہمیشہ مدینہ میں اس قسم کی جھوٹی خبریں اُڑا دیا کرتے تھے کہ دشمن آگیا، مارے گئے، ہلاک ہو گئے۔مگر فرمایا مومن اس قسم کی خبروں سے ڈرا نہیں کرتے بلکہ ایمان میں اور زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔تم فرض کرو یہاں احراریوں کے قلعے بھی بن جائیں تو کیا تم یہ خیال کرسکتے ہو کہ تم نے دنیا کے جن قلعوں کو فتح کرنا ہے، یہ قلعے ان سے زیادہ مضبوط اور زبردست ہوں گے کہ تم انہیں فتح نہیں کر سکو گے۔اگر تم نے یورپ'، فرانس، جرمن اور۔امریکہ کے قلعے ایک دن فتح کرنے ہیں اور دنیا میں تمہاری ہی تمہاری حکومت ہونی ہے تو کیا