خطبات محمود (جلد 15) — Page 206
خطبات محمود ۲۰۶ سال ۱۹۳۴ء کے پاس نہیں گئے بلکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں اور اس کی نصرت و تائید حاصل کی، تو کیوں تم بھی اسی راہ کو اختیار نہیں کرتے۔اگر انگریزوں کی مدد ایسی ہی اعلیٰ چیز ہوتی تو چاہیے تھا یہ انگریز محمد ﷺ کے وقت میں بھی ہوتے تا آپ کو بھی ان کی مدد سے فائدہ پہنچتا۔پس یہ بیوقوفی اور نادانی ہوگی کہ جب ہم انگریزوں کی ان کے عدل کی وجہ سے تعریف کریں تو اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ ہمیں ان کی مدد کی ضرورت ہے یا ہمیں ان سے مدد لینی چاہیئے۔ہم ان کی تعریف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اچھے ہیں۔تعریف کے یہ معنی نہیں کہ ہم اپنے تو کل اور دین کو ان پر قربان کردیں۔اور اس میں انگریزوں کی خصوصیت نہیں اگر جرمن والے اچھی بات کریں گے تو ہم ان کی تعریف کریں گے، فرانس والے اچھی بات کریں گے تو ہم ان کی تعریف کریں گے۔پس انگریزوں کی اگر ہم تعریف کرتے ہیں تو اس لئے کہ یہ اچھے کام کرتے ہیں، عدل اور انصاف قائم کرتے ہیں، رعایا کی تکالیف کو حتی الوسع دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس تعریف کا یہ مطلب نہیں کہ ہم خیرات کا ٹھوٹھا لے کر ان کے پاس جائیں۔جب تک وہ اچھی باتوں پر قائم رہیں گے ہم انہیں اپنا دوست اور خیر خواہ سمجھیں گے۔لوگ اگر ان کو بُرا بھلا بھی کہیں تو ہم تعریف کریں گے لیکن خیرات کا ٹھیکرا لے کر کسی کے پاس جانا مومن کا کام نہیں۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اليد العليا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفَلی سے دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے اچھا ہوتا ہے۔جب تک ہم انگریزوں کی تعریف کر کے ان سے مانگتے کچھ نہیں اس وقت تک ہمارا ہاتھ اونچا ہے اور اگر ہم ان سے کچھ مانگنے جاتے ہیں تو وہ اعلیٰ اور ہم اونی بن جاتے ہیں۔پس جماعت میں یہ ی غلطی پیدا ہو رہی ہے مگر باوجود اس کے جماعت میں قربانی کی روح بھی پائی جاتی ہے اور جب تک یہ روح قائم رہے گی خدا تعالیٰ کے وعدے بھی پورے ہوتے رہیں گے۔دنیا کی کوئی طاقت انہیں ٹلا نہیں سکتی، نہ دشمنوں کی دشمنیاں ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔لیکن مجھے حیرت ہوتی ہے ہماری جماعت کے مومن اور مخلص افراد بھی بعض دفعہ دشمنوں کی شرارتوں کی وجہ سے گھبرا جاتے ہیں حالانکہ دشمنوں کی حیثیت ہی کیا ہے۔میں بچہ تھا لیکن مجھے خوب یاد ہے یہاں ہمارے ہی بعض عزیز راستہ میں کیلے گاڑ دیا کرتے تھے تاکہ جب مہمان نماز پڑھنے آئیں تو رات کی تاریکی میں ان کیلوں کی وجہ سے ٹھوکر کھائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوتا اور اگر کیلے اُکھاڑے جاتے تو وہ لڑنے لگ جاتے۔اسی طرح مجھے خوب یاد ہے مسجد مبارک کے سامنے۔