خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 207

خطبات محمود ۲۰۷ ۱۹۳۴ء دیوار مخالفوں نے کھینچ دی تھی۔بعض احمدیوں کو جوش بھی آیا اور انہوں نے دیوار کو گرا دینا چاہا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہمارا کام صبر کرنا اور قانون کی پابندی اختیار کرنا ای۔ہے۔پھر مجھے یاد ہے میں بچہ تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچپن سے ہی مجھے رویائے صادقہ ہوا کرتے تھے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ دیوار گرائی جارہی ہے اور لوگ ایک ایک اینٹ کو اٹھا کر پھینک رہے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کچھ بارش بھی ہو چکی ہے۔ا حالت میں میں نے دیکھا کہ مسجد کی طرف حضرت خلیفہ اول تشریف لا رہے ہیں۔جب مقدمہ کا فیصلہ ہوا اور دیوار گرائی گئی تو بعینہ ایسا ہی ہوا۔اس روز کچھ بارش بھی ہوئی اور درس کے بعد حضرت خلیفہ اول جب واپس آئے تو آگے دیوار توڑی جارہی تھی میں بھی کھڑا تھا۔چونکہ اس خواب کا میں آپ سے پہلے ذکر کرچکا تھا اس لئے مجھے دیکھتے ہی آپ نے فرمایا میاں دیکھو آج تمہارا خواب پورا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بائیکاٹ بھی ہم نے دیکھا۔وہ وقت بھی دیکھا جب چوڑھوں کو صفائی کرنے اور سقوں کو پانی بھرنے سے روکا جاتا۔پھر وہ وقت بھی دیکھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہیں باہر تشریف لے جاتے تو آپ پر مخالفین کی طرف پتھر پھینکے جاتے اور وہ ہر رنگ میں نفسی اور استہزاء سے پیش آتے۔مگر ان تمام مخالفتوں وہ کے باوجود کیا ہوا، آپ جتنے لوگ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں، آپ میں سے پچانوے فیصدی و ہیں جو اس وقت مخالف تھے یا مخالفوں میں شامل تھے مگر اب وہی پچانوے فیصدی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے ساتھ شامل ہیں۔پھر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد جماعت میں جو شور اُٹھا اس کا کیا حشر ہوا۔اس فتنہ کے سرگروہ وہ لوگ تھے جو صدرانجمن پر حاوی تھے اور تحقیر کے طور پر کہا کرتے تھے کہ کیا ہم ایک بچہ کی غلامی کرلیں۔خدا تعالی نے اسی بچے کا ان پر ایسا زعب ڈالا کہ وہ قادیان چھوڑ کر بھاگ گئے اور اب تک یہاں آنے کا نام نہیں لیتے۔انہی لوگوں نے اُس وقت بڑے غرور سے کہا تھا کہ جماعت کا اٹھانوے فیصدی حصہ ہمارے ساتھ ہے اور دو فیصدی ان کے ساتھ۔مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے دو فیصدی بھی ان کے ساتھ نہیں رہا اور اٹھانوے فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ ہماری جماعت میں شامل ہو چکا ہے۔غرض ہر رنگ میں ہماری مخالفت کی گئی، مقامی طور پر بھی اور بیرونی طور پر بھی، مگر اللہ تعالی نے ہمیں ہمیشہ کامیاب رکھا۔ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں مخالفتوں کا کیا ڈر ہو سکتا ہے۔احرار