خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 205

خطبات محمود ۲۰۵۰ سال ۶۱۹۳۴ کہ رو جس وقت ہماری جماعت کی تعداد آج کی تعداد سے بہت کم یعنی سرکاری مردم شماری کی رو سے صرف اٹھارہ سو تھی اس وقت بدر کے خریداروں کی تعداد چودہ سو تھی۔اس وقت سرکاری مردم شماری کی رو سے پنجاب میں احمدیوں کی تعداد چھپن ہزار ہے اور اگر پہلی نسبت کا لحاظ رکھا جائے تو آج ہمارے اخبار کے صرف پنجاب میں چار ہزار سے زائد خریدار ہونے چاہئیں۔اور اگر اس امر کو دیکھا جائے کہ یہ تعداد جو مردم شماری کی رو سے بیان کی گئی ہے، قطعا صحیح نہیں اور پنجاب کے علاوہ ہندوستان اور دوسرے ممالک کے احمدیوں کو بھی ملانیا جائے تو اخبار "الفضل" کے اس وقت کم از کم سات آٹھ ہزار خریدار ہونے چاہئیں مگر اس کی خریداری پندرہ اور اٹھارہ سو کے درمیان رہتی ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اخبار اس وسعت سے شائع نہیں ہوتا جس وسعت کے ساتھ اسے شائع ہونا چاہیئے۔یہی وجہ ہے ہماری آواز تمام احمدیوں تک نہیں پہنچتی بلکہ وہی احمدی اس سے واقف ہوتے ہیں جو اخبار خریدتے یا دوسروں سے لے کر پڑھ لیتے ہیں باقی لوگ سلسلہ کے حالات سے بے خبر رہتے ہیں۔حتی کہ مجھے تعجب ہوا کل ہی شملہ کے امیر جماعت کا ایک خط آیا ایک ایسے امر کے متعلق جس کا ذکر جلسہ سالانہ والی تقریر میں بھی تھا اور ایک دو خطبات بھی اس پر میں نے پڑھے تجھے کہ ہمیں اب تک اس بات کا علم نہ ہو سکا تھا۔اگر امراء جماعت بھی سلسلہ کے اہم امور سے اور ان امور سے جو اخبار میں شائع ہو جاتے ہوں اتنے ناواقف رہتے ہوں تو بجز اس کے اور کیا سمجھا جاسکتا ہے کہ نہ تو دلچسپی سے اخبار کا مطالعہ کیا جاتا سے اخبار کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور نہ اخبار اس کثرت سے شائع ہوتا ہے جس کثرت کے ساتھ اسے شائع ہونا چاہیے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری آواز تمام جماعت تک نہیں پہنچتی۔بهرحال جماعت میں یہ ایک کوتاہی پائی جاتی ہے۔خواہ تربیت کی کمی کی خواہ ایمان کے نقص کی وجہ سے، خواہ اس وجہ سے کہ سب لوگوں تک ہماری آواز نہیں پہنچتی کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر گورنمنٹ سے مدد مانگنے کیلئے بے قرار ہو جاتے ہیں۔بعض دفعہ تو یہ تصور کرکے ہی مجھے شرم آجاتی ہے کہ جب ہم خدا تعالیٰ کے حضور جائیں گے تو اسے کیا کہیں گے کہ اے خدا ہم نے تیری مدد پر تو بھروسہ نہ کیا اور اگر کیا تو انگریزوں پر۔یہی وجہ ہے کہ ایسے خطوں کا میں یہ جواب دیتا ہوں کہ جس حاکم کے پاس محمد اے جایا کرتے تھے اس کے پاس تمہارے لئے میں بھی جانے کیلئے تیار ہوں اور اگر محمد ا کسی مجسٹریٹ یا افسر وجہ سے کے