خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 489

خطبات محمود ۴۸۹ سال ۱۹۳۴ کرتے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس گولی بارود نہیں۔اس نے کہا پھر بھاگتے کیوں نہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ بھاگنا ہمیں نپولین نے سکھایا نہیں۔اور اس وقت بعض فرانسیسی افسر آگے بڑھے اور نپولین کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر اسے موڑنا چاہا اور اس سے درخواست کی کہ آپ واپس لوٹیں۔اس نے جواب دیا کہ میں کس طرح لوٹ سکتا ہوں جب میرے سپاہی جانیں دے رہے ہیں مگر انہوں نے کہا کہ فرانس کی عزت آپ سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ آپ واپس لوٹیں۔تو بعض دفعہ بعض چیزوں کو ایسی اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ ان کے مٹنے کے بعد شان قائم نہیں رہ سکتی۔پس قادیان اور باہر کی اینٹوں میں فرق ہے۔اس مقام کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں اسے عزت دیتا ہوں جس طرح بیت الحرام، بیت المقدس یا مدینه و مکہ کو برکت دی ہے اور اب اگر ہماری غفلت کی وجہ سے اس کی تقدیس میں فرق آئے تو یہ امانت میں خیانت ہوگی اس لئے یہاں کی اینٹیں بھی انسانی جانوں سے زیادہ قیمتی ہیں اور یہاں کے مقدس مقامات کی حفاظت کیلئے اگر ہزاروں احمدیوں کی جانیں بھی چلی جائیں تو پھر بھی ان کی اتنی حیثیت نہ ہوگی جتنی ایک کروڑ پتی کیلئے ایک پیسہ کی ہوتی ہے۔پس قادیان اور قادیان کے وقار کی حفاظت زیادہ سے زیادہ ذرائع سے کرنا ہمارا فرض ہے۔نویں بات اس میں میرے مد نظر یہ ہے کہ جماعت کو ایسے مقام پر کھڑا کر دیا جائے کہ اگلا قدم اٹھانا سہل ہو۔میں نے اس سکیم میں اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ اگر آئندہ اور قربانیوں کی ضرورت پڑے تو جماعت تیار ہو اور بغیر مزید جوش پیدا کرنے والی تحریکات کرنے کے جماعت آپ ہی آپ اس کیلئے آمادہ ہو۔دسویں بات اس میں میں نے یہ مد نظر رکھی ہے کہ ہماری جماعت کا تعلق صرف ایک ہی حکومت سے نہ رہے اب تک ہمارا حقیقی تعلق صرف ایک ہی حکومت سے ہے سوائے افغانستان کے جہاں ہماری جماعت اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتی اور احمدی کام نہیں کر سکتے باقی سب مقامات پر جہاں جہاں زیادہ اثر رکھنے والی جماعتیں ہیں۔مثلاً ہندوستان نائیجیریا گولڈ کوسٹ، مصر، سیلون، ماریشس وغیرہ مقامات پر وہ سب برطانیہ کے اثر کے نیچے ہیں دیگر حکومتوں سے ہمارا تعلق نہیں سوائے ڈچ حکومت کے ، مگر ڈچ بھی یورپین ہیں اور یورپینوں کا نقطہ نگاہ ایشیائی لوگوں کے بارہ میں جلدی نہیں بدلتا۔ہمیں ایسی حکومتوں سے بھی لگاؤ پیدا کرنا