خطبات محمود (جلد 15) — Page 490
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء چاہیے جن کی حکومت میں ہم شریک ہوں یا جو ہم پر حکومت کرنے کے باوجود ہمیں اپنا بھائی سمجھیں۔مشرقی خواہ حاکم ہو مگر وہ محکوم کو بھی اپنا بھائی سمجھے گا۔اسی طرح جنوبی امریکہ کے لوگ ہیں انہوں نے بھی چونکہ کبھی باہر حکومت نہیں کی اس لئے وہ بھی ایشیائی لوگوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔پس اس سکیم میں میرے مد نظر ایک بات یہ بھی ہے کہ ہم باہر جائیں اور نئی حکومتوں سے ہمارے تعلقات پیدا ہوں، تاہم کسی ایک ہی حکومت کے رحم پر نہ رہیں۔یوں تو ہم خداتعالی کے ہی رحم پر ہیں مگر جو حصہ تدبیر کا خدا نے مقرر کیا ہے اسے اختیار کرنا بھی ہمارا فرض ہے اس لئے ہمارے تعلقات اس قدر وسیع ہونے چاہئیں کہ کسی حکومت یا رعایا کے ہمارے متعلق خیالات میں تغیر کے باوجود بھی جماعت ترقی کر سکے۔۔گیارھویں بات یہ مد نظر ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس درد میں ہماری شریک ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ ایک نعمت دی ہے کہ ہمارے دلوں میں درد پیدا کردیا ہے۔گورنمنٹ نے جو ہماری ہتک کی یا احرار نے جو اذیت پہنچائی اس کا یہ فائدہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ ہمارے دلوں میں درد کی نعمت پیدا کردی۔اور وہی بات ہوئی جو مولانا روم نے فرمائی ہے ہر بلائیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده است حصہ یعنی ہر آفت جو مسلمانوں پر آتی ہے اس کے نیچے ایک خزانہ مخفی ہوتا ہے۔پس یقینا یہ بھی ایک خزانہ تھا جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دیا کہ جماعت کو بیدار کردیا اور جو لوگ مست اور غافل تھے ، ان کو بھی چوکنا کر دیا۔پس یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو دنیوی نگاہ میں مصیبت تھا مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک رحمت تھا اور میں نے نہیں چاہا کہ اس سے صرف موجودہ نسل ہی۔لے بلکہ یہ چاہا ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اس سے حصہ پائیں۔اور میں نے اس سکیم کو ایسا رنگ دیا ہے کہ آئندہ نسلیں بھی اُس طریق پر نہیں جو شیعوں نے اختیار کیا ہے بلکہ عقل سے اور اعلیٰ طریق پر جو خدا کے پاک بندے اختیار کرتے آئے ہیں اسے یاد رکھ سکیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔اس کے علاوہ اور بھی فوائد ممکن ہے اس میں ہوں مگر یہ کم سے کم تھے جو میں نے بیان کر دیئے ہیں۔یا یوں کہو کہ یہ سکیم کا وہ حصہ ہے جو خدا تعالیٰ نے فضل سے مجھے بتایا۔اس سکیم کے ثواب کو وسیع اور فائدہ کو زیادہ کرنے کیلئے اس میں اپنے