خطبات محمود (جلد 15) — Page 488
خطبات محمود ۴۸۸ i سال ۱۹۳۴ کر کے چپ ہو رہے گا کہ یہ زیادہ آدمی ہیں، ایسا نہ ہو ماریں اور اس طرح ان کو تبلیغ کی ٹریننگ نہ ہوگی۔مگر جب اپنے ماحول سے دور جاکر اور مسلسل طور پر ایک شخص کام کرے گا تو اسے مبلغ والی صحیح تربیت حاصل ہوگی۔پس اس سکیم میں یہ بھی میرے مد نظر ہے کہ تبلیغ کا دائرہ زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جائے اور ایسے مبلغ پیدا کئے جائیں جو بغیر معاوضہ کے تبلیغ کریں۔آٹھویں بات اس سکیم میں میرے مد نظر یہ ہے کہ مرکز کو ایسا محفوظ کیا جائے کہ وہ بیرونی حملوں سے زیادہ سے زیادہ محفوظ ہو جائے۔اس بات کو اچھی طرح سوچنا چاہیے کہ ایک سپاہی اور جرنیل میں کتنا فرق ہے مگر یہ فرق ظاہر میں نظر نہیں آتا۔مثال کے طور پر آنکھوں کو لے لو سپاہی اور جرنیل کی آنکھ میں کیا فرق ہے۔سوائے اس کے کہ سپاہی کی نظر تیز ہوگی اور جرنیل بوجہ بڑھاپے کے اس قدر تیز نظر نہ رکھتا ہو گا۔اسی طرح دونوں کے جسم میں کیا فرق ہے سوائے اس کے کہ سپاہی نوجوان اور مضبوط ہونے کی وجہ سے زیادہ بوجھ اٹھا سکتا ہے اور جرنیل اس قدر نہیں اٹھا سکتا۔یا سپاہی زیادہ دیر بھوک برداشت کر سکتا ہے اور جرنیل ایسا نہیں کر سکتا۔مگر باوجود اس کے جرنیل کی جان ہزاروں سپاہیوں سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے اور بعض دفعہ ساری کی ساری فوج اسے بچانے کیلئے تباہ ہو جاتی ہے۔نپولین کو جب انگریزوں اور جرمنوں کی متحدہ فوج کے مقابل میں آخری شکست ہوئی ہے تو اس وقت اس کی فوج کے ایک ایک سپاہی نے اسی خواہش میں جان دے دی کہ کسی طرح نپولین کی جان بچ جائے کیونکہ ہر ایک یہی سمجھتا تھا کہ اگر نپولین بچ گیا تو فرانس بھی بچ جائے گا، ورنہ مٹ جائے گا۔نپولین کا جو گارڈ تھا وہ چنندہ بہادروں پر مشتمل تھا اور اس کے سب سپاہی اس قدر بہادر تھے کہ یورپ میں ضرب المثل تھی کہ نپولین کا گارڈ جب حرکت میں آتا ہے تو زمین ہل جاتی ہے۔جب واٹرلو کے میدان میں جنگ کا پہلو فرانسیسیوں کے حق میں خراب نظر آنے لگا تو گارڈ آگے بڑھے اس دن انگریز اور جرمن بھی یہ سمجھ کر لڑ رہے تھے کہ اگر آج شکست ہوگئی تو دنیا میں ہم زندہ نہ رہ سکیں گے اس لئے وہ بھی سر اور دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے اس لئے جب گارڈ نے حملہ کیا تو انگریزی فوج اس کے صدمات کو جرات سے سہہ گئی۔اور گارڈ کا پہلا حملہ ناکام رہا تو فرانسیسیوں کیلئے خطرہ اور بھی بڑھ گیا۔اتنے میں گولہ بارود بھی فرانسیسیوں کا ختم ہو گیا اور گارڈ کو تلواروں اور کرچوں سے لڑنا پڑا۔وہ گولیاں کھا کھا کر گر رہے تھے مگر پیچھے نہ ہٹتے تھے۔لکھا ہے کہ اس وقت کسی نے انہیں کہا کہ تم بندوقیں کیوں استعمال نہیں