خطبات محمود (جلد 15) — Page 390
خطبات محمود ٣٩٠ سال ۱۹۳۴ بڑی قربانیوں کیلئے تیار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔سو یاد رکھنا چاہیے کہ جب میں یہ کہتا ہوں کہ فتنہ کوئی بڑا فتنہ نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ مت سمجھو کہ یہ آخری فتنہ ہیں ہے جو بلکہ سمجھو کہ یہ بڑی لڑائیوں کا پیش خیمہ ہے اور اس سے بہت بڑے بڑے فتنے جماعت کے سامنے آنے والے ہیں کیونکہ ہم نے احمدیت کسی ایک شہر یا ملک میں نہیں پھیلانی بلکہ ساری دنیا کو احمدیت میں شامل کرنا ہے۔پس جبکہ ہمارا مقصد ساری دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو ہم کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اگر لاہور کے چوہدری افضل حق صاحب، مولوی مظہر علی صاحب اور عطاء اللہ صاحب بخاری اور مولوی ظفر علی صاحب اور ان کے دوستوں کو ہم شکست دے لیں تو ساری دنیا ہمارے لئے فتح ہو جائے گی۔اگر ہم ایسا خیال کریں تو یہ ویسی ہی بات ہوگی جس طرح کوئی شخص چماروں کی ایک جھونپڑی گرا آئے اور سمجھے کہ اس سے ملک کا بادشاہ ڈر کر بھاگ جائے گا۔ان بیچاروں کی ہستی ہی کیا ہے، ان کی تو جو کچھ حیثیت قائم ہوئی، وہ ہماری مخالفت کی وجہ سے ہوئی ہے ورنہ ان کی قوم کے اپنے لوگ بھی پرائیویٹ طور پر انہیں بہت بُرا سمجھتے ہیں۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ یہ کوئی بڑا فتنہ نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہمیں اس فتنہ کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے یا ہمیں اس کے استیصال کا فکر نہیں کرنا چاہیے بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سے بھی بڑے فتنے جماعت کے سامنے آنے ہیں۔اور ہماری جماعت کا جہاں یہ فرض ہے کہ وہ سمجھے کہ یہ کوئی بڑا فتنہ نہیں، اس سے بڑے فتنوں کا اس نے مقابلہ کرنا ہے وہاں اس کا یہ بھی فرض ہے کہ اس فتنہ کو بھی مٹائے کیونکہ اگر ہمیں اس چھوٹے فتنہ میں کامیابی نہ ہوئی تو بڑے فتنوں کے مقابلہ میں ہمیں کس طرح کامیابی حاصل ہوگی۔پس اس نقطہ نگاہ کے ماتحت ہمیں ہوشیار ہو جانا چاہیے کہ اگر ہم اس فتنہ کے مقابلہ میں ہار گئے جو کوئی بڑا فتنہ نہیں تو پھر اس سے بڑے فتنوں کے مقابلہ میں ہمارا کیا بنے گا۔مجھ سے بہت لوگوں نے وعدے کئے ہیں کہ وہ اپنی جانیں اور اپنے اموال سلسلہ کیلئے فدا کرنے کو تیار ہیں۔اس قربانی کا وعدہ کرنے والی بہت سی جماعتیں ہیں اور بہت سے جماعتوں کے افراد ہیں، پھر مردوں کے علاوہ عورتوں نے بھی اپنے آپ کو اس قربانی کیلئے پیش کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں اگر سب کو ملا لیا جائے تو ہزاروں کی تعداد ہو جاتی ہے۔اور میں یقیناً دل میں خوشی محسوس کرتا ہوں کہ ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کی ایسی روح پھونک دی ہے کہ وہ دین کیلئے ہر قسم کی تکلیف برداشت کرنے کیلئے تیار ہے اور ہر اس آواز والے