خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 391 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 391

خطبات محمود سال لبیک کہنے کو آمادہ جو خدا اور اس کے رسول یا اس کے نائبوں کی طرف سے بلند ہو۔پس یہ نہایت خوشی کی بات ہے۔مگر چونکہ یہ وعدے پیش از وقت ہیں اور چونکہ وہ سکیم میں نے ابھی بیان نہیں کی جس کے بیان کرنے کا ارادہ ہے اس لئے میں پورے طور پر خوش نہیں کیونکہ ممکن ہے لوگوں نے قربانی کا صحیح اندازہ نہ کیا ہو اور جب قربانی کا حقیقی مطالبہ ان کے سامنے رکھا جائے تو ان میں سے بعض مذرات پیش کرنے لگ جائیں۔میرا اپنا اندازہ یہ ہے کہ لوگ بڑی لیکن وقتی قربانیوں کیلئے تو فوراً تیار ہو جاتے ہیں لیکن اگر ان سے مسلسل چھوٹی قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے۔مثلاً ان سے دس دس منٹ روز کی مسلسل ایک لمبے عرصہ تک قربانی طلب کی جائے تو وہ چند دنوں کے بعد ہی رہ جائیں گے۔اگر حکم دیا جائے کہ جاؤ اور لڑ کر مرجاؤ تو میں سمجھتا ہوں سو میں سے ایسا اخلاص رکھنے والے جیسا کہ ہماری جماعت کے افراد میں ہے، نوے لڑ کر مر جانے کیلئے تیار ہو جائیں گے لیکن اگر ایک سو سے کہا جائے کہ پیدل چلتے ہوئے بنگال پہنچ جاؤ تو سو میں سے پچاس معذر تیں کرنی شروع کردیں گے۔کوئی کہے گا میری بیوی بیمار ہے، کوئی کہے گا میرے بچے بیمار ہیں، کوئی کہے گا میں چل نہیں سکتا۔یہ سو میں سے پچاس کا اندازہ میں نے اپنی جماعت کے متعلق لگایا ہے ورنہ دوسرے مسلمانوں میں سے تو سو میں سے شاید ایک قائم رہے اور نانوے اپنے عہد سے منحرف ہو جائیں لیکن جان دینے کی قربانی کا اگر سوال ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسی حالت میں بھی جبکہ مسلمانوں کا نظام ٹوٹ چکا اور ان کی اسلامی محبت مرچکی ہے، ان میں سے سو میں سے ایک دو ضرور نکل کھڑے ہوں گے لیکن اگر تھوڑی مگر مستقل قربانی کا مطالبہ کیا جائے تو لاکھوں مسلمانوں میں سے ایک بھی نہیں نکلے گا۔اور میں جب کہتا ہوں کہ لاکھوں مسلمانوں میں سے ایک بھی نہیں نکلے گا تو میں مبالغہ نہیں کرتا بلکہ مسلمانوں کے متعلق اپنا تجربہ بیان کرتا ہوں۔مسلمانوں کے سامنے کئی سیاسی کام آئے مگر دو چار دن جوش دکھا کر و رہ گئے۔پس عام مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنی جماعت کے متعلق مستقل قربانی کے سلسلہ میں جب میں پچاس فیصدی افراد کا اندازہ لگاتا ہوں تو درحقیقت میں اپنی جماعت کی بہت کچھ تعریف کرتا ہوں۔لیکن ہماری تسلی تو پچاس پر نہیں ہوتی بلکہ سو پر ہوا کرتی ہے اور جب تک ہم سو فیصدی مکمل نہ ہو جائیں اس وقت تک امن نصیب نہیں ہو سکتا۔میں سمجھتا ہوں اگر میں قربانی کیلئے اپنا نام پیش کرنے والوں میں سے کسی کو بلا کر کہوں