خطبات محمود (جلد 15) — Page 359
خطبات محمود ۳۵۹ سال ۱۹۳۴ء۔دوسرے سے دے دینا "زمیندار" جیسی قسم کے لوگوں کے اخلاق کی ہرگز اصلاح نہیں کرتا۔اب میں اپنے خطبہ کو ختم کرتے ہوئے جماعت سے کہتا ہوں کہ اب ہمارا ایک جھگڑا تو احرار سے ہے، انہوں نے ہمیں چیلنج دیا ہے اور گو ہم ظاہری طور پر کمزور ہیں مگر ہمیں اللہ تعالی کا ہے کہ کسی چیلنج کو ہم قبول کرنے سے انکار نہ کریں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ثابت کردیں کہ ہمارے رب کے سپاہی بزدل نہیں ہوتے اور میں امید کرتا ہوں کہ جب میں اس سکیم کو بیان کروں گا جو ان فتن کو دور کرنے کے متعلق ہوگی تو اس وقت ہماری جماعت کا اہر فرد اپنے ذرائع کے مطابق لبیک کہتا ہوا آگے بڑھے گا۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ یہ فتنہ کوئی اہم چیز نہیں اس سے بڑے بڑے فتنے ہماری جماعت کیلئے مقدر ہیں مگر وہ جو چھوٹے فتنہ کیلئے قربانی کرنے پر تیار نہ ہو، اس سے امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی بڑے فتنہ کے وقت قربانی کر سکے گا۔خدا بیشک عالم الغیب ہے اور وہ ہماری نیتوں سے آگاہ ہے مگر دنیا پر رُعب صرف اسی صورت میں پڑ سکتا ہے جب ہم اپنی قربانیوں سے اپنا زندہ ہونا ثابت کردیں۔پس اس فتنہ کے استیصال کیلئے جو تجاویز بتائی جائیں گی، میں امید کرتا ہوں کہ جماعت ان پر عمل کرے گی اور گورنمنٹ کے معاملہ میں محبت پیار اور ادب کا سلوک قائم رکھے گی۔مجھے یقین ہے جیسا کہ اس خطبہ میں میں نے بیان کیا ہے کہ بعض چھوٹے افسروں کی یہ کارروائی ہے۔مجھے نہ تو ہز ایکسی لینسی گورنر پر شبہ ہے اور نہ ہی مسلمان، ہندو اور سکھ نمائندوں پر کیونکہ یہ اتنی گری ہوئی بات ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا ایک ہندو یا سکھ بھی ہم سے اس معاملہ میں ہمدردی نہ کرے۔پس مجھے اب تک یقین ہے کہ گورنمنٹ سے مراد گورنمنٹ نہیں بلکہ اس کے صرف چند افسر ہیں۔اگر ہمیں ان کی طرف سے حق مل گیا تو ہم اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہہ کر اس معاملہ کو چھوڑ دیں گے اور اگر یہ ہمارے حقوق ہمیں نہ دیں گے تو پھر ہم اپیل کریں گے کہ اپنے میں سے ایک انگریز یا مسلمان افسر جو احرار سے تعلق نہ رکھتا ہو، مقرر کیا جائے اور اس کے سامنے ان تمام واقعات کو رکھا جائے۔اگر اس طریق کو منظور نہ کیا گیا تو پھر گورنمنٹ آف انڈیا کے پاس اپیل کی جائے گی اور پھر ہوم گورنمنٹ کے پاس اور پھر انگلستان اور ایمپائر کی پبلک کے پاس۔اگر کہیں توجہ نہ ہوئی تو پھر میں وہ طریق اختیار کروں گا جو خداتعالی نے مجھے سمجھایا ہے لیکن ان تمام حالات میں ہم قانون کے پابند رہیں گے اور کسی صورت میں بھی گورنمنٹ کے ادب اور احترام کو اپنے ہاتھ سے نہیں دیں گے۔اگر کوئی سرکاری افسر ہمارا ادب نہیں۔