خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 358

سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۳۵۸ کہ ہم انہی کا کام کر رہے ہیں، دل کو ڈھارس دیتا ہے۔ورنہ دل بعض وقت اس قدر بے چین ہو جاتا ہے کہ ایک منٹ کی جدائی کی بھی تاب نہیں رہتی۔شخص پس گورنمنٹ سمجھ ہی نہیں سکتی کہ ہمارے دل میں کیا جذبات امتتان ہیں اس کے متعلق جس نے ہمارے سامنے اسلام کی صحیح تعلیم رکھی، جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کا چہرہ ہمارے سامنے روشن کیا جس نے ہمارا زندہ خدا ہمیں دکھایا اور وہ پردہ جو ہم میں اور ہمارے معشوق میں حائل تھا اس کو چاک کر کے ہمیں اس سے ملادیا۔اگر گورنمنٹ کو ہمارے دلوں کا حال معلوم ہو تا، اگر گورنمنٹ کو ان جذبات کا پتہ لگتا تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کبھی ایسی بات نہ کہتی مگر افسوس کہ اس نے کبھی ہمارے دلوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔یہاں قادیان میں ہی احراریوں کی طرف سے تقریر کرتے ہوئے کہا گیا کہ احمدی جماعت رسول کریم ﷺ کی بہتک کرتی ہے۔یہ کیسی اشتعال دلانے والی بات ہے۔ہم تو وہ ہیں کہ جنہوں نے رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کیلئے ساری دنیا سے لڑائی مول مگر ہمیں ہی یہ کہا جاتا ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کی ہتک کرنے والے ہیں۔وہ خود تو محمد مصطفی ا کو مدینہ منورہ میں مدفون قرار دیتے اور مسیح کو آسمان پر زندہ سمجھتے ہیں، وہ خود تو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ محمد ﷺ نے ایک چڑیا بھی پیدا نہ کی مگر مسیح ناصری نے بہت سے جانور پیدا کئے، وہ خود تو یہ سمجھتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک مردہ بھی زندہ نہیں کیا لیکن مسیح ناصری نے بہت سے مُردے زندہ کئے اور اس طرح وہ رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے اور مسیح ناصری کو فوقیت دیتے ہیں لیکن الزام الٹا ہم پر لگاتے ہیں۔ہمارا تو دعوئی ہے کہ۔۔بعد از خدا بعشق محمد مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم پس اس طرح ہمارے دل دکھائے جاتے اور ہمارے قلوب کو مجروح کیا جاتا ہے مگر گورنمنٹ انہیں صرف وارننگ کرنے پر ہی اکتفا کرتی ہے اور سوائے اس ایک موقع کے کہ زمیندار سے اس نے اب ضمانت لی ہے اور کسی موقع پر گورنمنٹ نے ہماری تکلیف کی طرف توجہ نہیں کی اور اس ضمانت کا بھی اثر ہم نہیں سمجھ سکتے کیا ہوگا کیونکہ کئی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ چند دنوں بعد خاموشی سے ضمانت واپس کر دی جاتی ہے۔یہ ایک ہاتھ سے لینا اور