خطبات محمود (جلد 15) — Page 360
خطبات محمود Fy سال ۱۹۳۴ء کرتا تو اس کے مقابلہ میں اگر ہماری جماعت بھی اس کا ادب نہ کرے تو وہ معذور سمجھی جائے گی مگر قانون کو کسی صورت میں بھی توڑا نہیں جاسکتا۔اگلے ہفتہ میں اِنْشَاءَ اللهُ احرار کے متعلق جماعت کے سامنے وہ تجاویز پیش کروں گا جو میں نے سوچ رکھی ہیں۔اس ہفتہ میں صرف باہر کی جماعتوں کو ہوشیار کرنا چاہتا ہوں کیونکہ باہر کے لوگوں میں سے بہت کم ہیں جو قادیان کے حالات سے واقف ہوں۔اسی طرح عورتیں سمجھتی ہوں کہ انہیں شاید اس تحریک میں شامل نہ ہونا ہو گا اس لئے میں یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ اس میں عورتوں کو بھی شامل ہونا پڑے گا اور اس قربانی کا نہ صرف مردوں سے بلکہ سے عورتوں سے بھی تقاضا کیا جائے گا۔مجھے اول تو امید ہے کہ ہمیں سیاسیات میں پڑنے حکومت بچالے گی لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو چونکہ ہماری انجمنیں مذہبی ہیں اور ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کیلئے اس معاملہ میں دخل دینا جائز نہیں ہو سکتا اس لئے اگر بامر مجبوری ہمیں سیاسی اقدام کرنا پڑا تو اس کیلئے الگ انجمنیں بنانی پڑیں گی جو موجودہ مذہبی انجمنوں۔بالکل الگ ہوں گی اور ان میں وہی لوگ ممبر ہو سکیں گے جو قانونی طور پر ممبر ہو سکتے ہیں۔میں اس امر کے آثار دیکھتا ہوں کہ حکومت کو جلد وفادار جماعتوں کی امداد کی پھر ضرورت پیش آئے گی۔میں یہ کسی الہام کی بناء پر نہیں کہتا بلکہ زمانہ کے حالات کو دیکھ کر عقل کی بناء پر کہتا ہوں۔میں نے کانگرس کی تحریک کو خوب غور سے دیکھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اب کانگرس ایک ایسی سکیم تیار کر رہی ہے جس سے گو بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ میدان سے ہٹ گئی مگر عنقریب وہ گورنمنٹ کو ایسی مشکلات میں ڈال دے گی جس کیلئے پھر اسے وفاداروں کی ضرورت محسوس ہوگی اور ہم پھر اپنے جھگڑے کو ایک طرف رکھ کر اس کی تیار ہو جائیں گے۔مگر حکومت نے ہمیں سبق دے دیا ہے کہ اس سے سودا کئے بغیر تعلق نہیں رکھنا چاہیئے۔ہم خود بھی آئندہ حکومت سے سودا کریں گے اور دوسروں کو بھی سودا کرنے کا سبق پڑھائیں گے سوائے اس صورت کے کہ حکومت ہم پر جو ظلم ہوا ہے اسے دور کرے تب ہمارے تعلقات پہلے کی طرح ہو جائیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہماری مدد سودا کرنے کے بعد ہوگی اور ہم اپنی خدمات کا معاوضہ طلب کریں گے اور اس جھگڑے کے خاتمہ کیلتے پرو وہ پر پھر اپنی ہتک کا سوال گورنمنٹ کے سامنے رکھیں گے اور اس سے مطالبہ کریں گے کہ ہماری ہتک کا ازالہ کرے۔اور یہ جھگڑا اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ گورنمنٹ