خطبات محمود (جلد 15) — Page 332
خطبات محمود سمسم سال ۱۹۹۳۴ء جائے۔ڈسٹرکٹ بورڈ کے پریذیڈنٹ ہونے کے لحاظ سے ایک ڈپٹی کمشنر کو فوجداری اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔پھر یہاں نہ تحقیقات ہوئی اور نہ ہی تعیین ہوئی اور خود بخود یہ حکم دے دیا گیا کہ پندرہ دن کے اندر اندر اسے اٹھا دیا جائے۔اس پر یہاں کے ایک مالک نے تحصیلدار صاحب کو لکھا کہ میر قاسم علی صاحب کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں۔اگر کوئی نوٹس دیا جاتا تو مالکان یا صدرانجمن کو دینا چاہیے۔ہم میر قاسم علی صاحب لوکل پریذیڈنٹ کے اس وعدہ کے پابند نہیں ہو سکتے۔اب وہ پندرہ دن بھی گزر گئے ہیں اور پھاٹک ابھی تک نہیں اٹھایا گیا۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا اپنی زمینوں میں پھاٹک نہیں لگائے جاتے۔اگر تو کسی پبلک تھا رو فیئر (THAROUGH FARE) میں یہ پھاٹک روک ہوتا یا گورنمنٹ کا اس میں کوئی راستہ ملتا تب تو یہ مطالبہ کیا جاسکتا تھا کہ اس پھاٹک کو اٹھا لیا جائے لیکن جب کہ وہ ہمارے نزدیک ہماری زمین میں واقع ہے اور ڈسٹرکٹ بورڈ نے ابھی تک اپنا حق ثابت نہیں کیا اور اگر اس کا حق ثابت بھی ہوا تو بھی صرف یہ ہوگا کہ وہ پھاٹک پانچ فٹ ورے لگ جائیگا۔پبلک کو کوئی نیا راستہ نہ مل جائے گا۔پھر میں نہیں سمجھتا کہ اسے اس قدر اہم فوجداری سوال کس طرح بنا دیا گیا اور کیوں اس واقعہ کی اطلاع پہنچتے ہی پولیس اور مجسٹریوں کے اندر ہیجان پیدا ہو گیا۔تعجب ہے کہ ایک طرف تو تخفیفیں ہو رہی ہیں اور حکومت کی طرف سے افسروں کو یہ تاکید کی ہے کہ وہ اپنے دوروں کو کم کردیں اور بعض جگہ تو اتنی سخت تنگی کی گئی ہے کہ خود تسلیم کرتی ہے کہ کام کو بہت نقصان پہنچا ہے مگر ہمارے خلاف معالمہ ہو تو اتنی فراخدلی برتی جاتی ہے کہ جو افسر اٹھتا ہے وہ جھٹ دورے پر قادیان آجاتا ہے۔اس کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ یا تو مالی تنگی کا جو شکوہ کیا جاتا ہے وہ غلط ہے اور یا ڈسٹرکٹ بورڈ کی زمین کے بہانہ سے افسروں کے دورے اور احکام کسی نہ کسی افسر کے عناد اور دشمنی کا ایک مظاہرہ ہیں۔گورنمنٹ کا فرض تھا کہ وہ دیکھتی کہ اس پل کی وجہ سے جو اس کے افسروں نے اتنے دورے کئے ہیں تو کیوں اور کن اغراض و مقاصد کے ماتحت اور کس افسر کے حکم سے ایسا ہوتا رہا ہے۔پھر یہ بھی دیکھیں کہ کیا انہوں نے یہ تمام خرچ گھر سے کیا تھا یا گورنمنٹ کے خزانے ہے۔اگر گورنمنٹ کے خزانہ سے یہ تمام خرچ کیا گیا ہے تو بتلایا جائے کہ اتنی دریادلی۔کیوں کام لیا گیا۔گورنمنٹ کسی باہر کے افسر کو مقرر کرکے دیکھ لے وہ تحقیقات کے بعد یہی سے بیان دے گا کہ کوئی پلک راستہ روکا نہیں گیا۔پس سوال صرف ڈسٹرکٹ بورڈ کی چند فٹ کی