خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 331

خطبات محمود سال ۱۹۳۴ تو دیئے ہیں۔احراری غیر احمدی میں اس لئے کہتا ہوں کہ یہاں کے رہنے والے بہت سے غیر احمدی شریف الطبع لوگ جن کے ہم سے تعلقات ہیں اور ہمارے ان سے وہ اس شور ڈالنے میں حصہ دار نہیں بلکہ ان کو وہ گالیاں بُری لگتی ہیں جو ہم کو دی جاتی ہیں مگر چونکہ کسی کی زبان کوئی نہیں پکڑ سکتا، احراری کہتے یہی ہیں کہ گویا یہاں کے سب غیر احمدی ان کے ساتھ ہیں ، جیسے پانچ سات ہزار آدمی جو ان کے جلسہ میں شریک ہوا تھا، ان کا نام ساٹھ پیار فرزندانِ توحید کا لہریں مارتا ہوا سمندر ہو گیا ہے، غرض ان لوگوں نے جو احرار کے شریک ہیں، شور ڈال دیا کہ احمدیوں نے سڑکوں پر چلنے سے ہمیں روک دیا ہے حالانکہ وہ سڑکیں نہیں تھیں۔اس پر پولیس کے اعلیٰ افسر یعنی سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی چند مرتبہ آئے، بعض مجسٹریٹ بھی متعدد دفعہ آئے اور کہنے لگے کہ یہ کیا ظلم کیا گیا ہے۔ایک افسر مجھ سے بھی ملا اور کہنے لگا یہ کیا غضب ہوا ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں کا راستہ روک دیا گیا ہے۔میں نے کہا اس میں مشکل کیا ہے پٹواری آپ کے پاس ہیں زمین کا نقشہ نکلوا لیجئے اگر یہ پھاٹک کسی اور کی زمین میں نکلے اور ایک منٹ کیلئے بھی ہماری جماعت اس کو اٹھانے میں دیر کرے تو میں اس کا ذمہ دار ہوں گا مگر اس کی طرف کسی نے توجہ نہ کی۔ایک افسر آتا اور دھمکی دے کر چلا جاتا۔پھر دوسرا آتا اور وہ دھمکی دے کر چلا جاتا۔جب یہ شور بہت بڑھا تو میں نے صدرانجمن والوں سے پوچھا کہ یہ آپ لوگوں نے کیا کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے اچھی طرح دیکھ بھال کر پھاٹک لگایا ہے وہ ہماری زمین میں ہے۔ڈسٹرکٹ بورڈ کی زمین میں نہیں ہے لیکن اگر ثابت جائے کہ یہ سرکاری زمین ہے تو ہم اسی وقت پھاٹک اٹھا لیں گے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے افسروں کے سامنے یہ بات پیش کی ہے کہ کوئی افسر آجائے تو وہ تحقیق کر کے دیکھ لے لیکن تحقیق کرنے کیلئے کوئی نہیں آتا۔البتہ ضلع کا عملہ گھبرایا ہوا پھرتا ہے حالانکہ اس کا فوجداری اور پولیس سے کوئی تعلق نہ تھا۔اس زمانہ میں مجھ سے بھی ایک اعلیٰ افسر نے کہا تھا کہ جو شور اس وقت ہو رہا ہے اس کے نتیجہ میں میں ڈرتا ہوں کہ حکومت سخت تجاویز اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔میں نے کہا ہم تو اپنی طرف سے با امن رہنے کی کوشش کرتے ہیں اگر اس پر بھی حکومت کا یہ خیال ہو تو ہم مجبور ہیں۔اب مہینہ دو مہینے ہوئے کہ ایک افسر یہاں آیا اور ڈپٹی کمشنر صاحب کے حکم سے لوکل کمیٹی کے پریذیڈنٹ سے وہ یہ دستخط لے کر گیا کہ پندرہ دن کے اندر اندر پھاٹک کو اٹھادیا