خطبات محمود (جلد 15) — Page 50
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کہے کہ روپیہ دیجئے، بارش کا خطرہ ہے، عمارت گر جائے گی۔تو وہ کہہ دے میری نیت تو ہے کہ آپ کو دس ہزار روپیہ دوں مگر پاس نہیں۔تو کیا تم کہو گے کہ وہ بڑا مخلص ہے کیونکہ اس کی نیت تو ہے کہ وہ دس ہزار روپیہ دے۔ہر شخص کہے گا کہ وہ دھوکا باز ہے اُس نے دھوکا ے کر اس کا روپیہ بھی برباد کرایا اور آپ پیچھے ہٹ گیا۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اگر بعض لوگ آپ کے پاس آتے اور کہتے یا رسُول اللہ ! فلاں دشمن کے مقابلہ میں لشکر کشی فرمائیں۔دس ہزار آدمی ہمارا آجائے گا اور جب رسول کریم تیار ہو کر باہر نکلتے تو دو چار آدمی بھیج دیتے اور کہتے ہماری نیت تو دس ہزار ہی بھیجنے کی تھی مگر ملے نہیں۔کیا تم سمجھتے ہو کہ چونکہ دس ہزار کا انہوں نے وعدہ کیا، اس لئے بڑے مخلص سمجھے جاتے۔نہیں بلکہ جتنی زیادہ انہوں نے اس رنگ میں نیت کی اُتنا وہ منافق اور دھوکا باز ثابت ہوئے۔نیت وہ ہوتی ہے جس کے پورا کرنے کا یقین ہو۔مگر قرض لینے والوں میں سے ننانوے فیصدی جانتے ہیں کہ ہم قرض ادا نہیں کر سکتے پھر بھی وہ قرض لیتے ہیں۔یا نیت ادا کرنے کی کرتے ہیں مگر ایسی جو کبھی پوری نہ ہو۔پس در حقیقت ان کی نیت بھی شیطانی ہوتی ہے۔اسی طرح تجارت پیشہ لوگ ہیں۔بیسیوں آدمی میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں۔ہمارے پاس روپیہ ہے کہیں تجارت پر لگوادیجئے۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر ہی میں نے تقریر کی کہ اس قسم کے لوگ میرے پاس آتے رہتے ہیں۔پندرہ ہیں ہزار روپیہ سالانہ جمع ہو جانا کوئی مشکل بات نہیں۔جلسہ کے بعد میرے پاس تین آدمیوں کی دستخطی چٹھی پہنچی کہ بس روپیہ کا ہی سوال تھا، ہمیں روپیہ دیجئے تاکہ ہم تجارت شروع کریں اور وہ تینوں ایسے تھے کہ اگر میں بھی اُنہیں قرض دوں تو وہ ایک دمڑی تک اس میں سے واپس نہ کریں۔ایک تو ان میں سے پچھلے دنوں بد دیانتی کی وجہ سے قید بھی ہو گیا ہے۔یہ ایک ایسا نقص ہے جس نے سلسلہ کا نظام بہت حد تک تہہ و بالا کر رکھا ہے۔اگر قرض ادا کرنے کی ہمت ہی نہیں تو کسی سے قرض لینے سے پیشتر ایسے شخص کا فرض ہے کہ لوگوں سے کہہ دے کہ میں کنگال ہوں، میری مدد کرو مگر جب وہ بغیر اپنے حالات پر غور کئے قرض لے لیتا ہے تو وہ فریبی ہے۔مانگنا علیحدہ چیز ہے۔اگر کوئی شخص سوال کرتا ہے تو اگر اس نے بغیر کسی اور ذریعہ سے کام لینے کے جلدی سے سوال کر دیا تو ہم کہیں گے یہ کم ہمت ہے اور اس میں اخلاق کی کمی ہے۔مصائب آئے مگر وہ جلدی ان سے گھبرا گیا لیکن قرض لینے والے کو جبکہ وہ ادا کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتا ہم یہ نہیں