خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 51

خطبات محمود۔سال ۱۹۳۴ء کہیں گے کہ کم ہمت ہے بلکہ یہ کہیں گے کہ دھوکا باز ہے۔ایسے لوگ مجلس میں بڑے فخر سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم سلسلہ سے تو نہیں مانگتے ہم تو لوگوں سے قرض لیتے ہیں حالانکہ جو سلسلہ سے مانگنے آتا ہے وہ اس سے ہزار درجہ بہتر ہوتا ہے جو ادا کرنے کے ذرائع مفقود ہوتے ہوئے قرض لیتا ہے کیونکہ مانگنے والا دھوکا نہیں دیتا مگر وہ دھوکا دیتا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ سے اس طریق کو بند کرنا چاہیئے۔قادیان میں بھی اور باہر بھی کثرت سے ایسے لوگ ہیں جو قرض لیتے اور پھر واپس نہیں کرتے۔مگر کثرت سے بھی وہ مراد نہیں جو مخالف بعض دفعہ میرے اس قسم کے الفاظ سے لے لیتے ہیں کہ کم از کم جماعت کے ا۵ فیصدی لوگ ایسے ہیں۔میرا اس قسم کے فقروں سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جماعت میں بیسیوں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں۔یہی بات میں اِس وقت کہہ رہا ہوں کئی لوگ ایسے ہیں جن کا شغل ہی یہ ہے کہ وہ قرض لیتے ہیں اور پھر ادا کرنے کا نام نہیں لیتے۔اس طریق پر وہ خود بھی بدنام ہوتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی بدنام کرتے ہیں جو جائز طور پر قرض لیتے اور پھر مجبوری کی وجہ سے ادا نہیں کر سکتے۔اگر مجبوریاں نہ ہوں تو وہ فوراً ادا کردیں۔میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں اور خصوصاً ان لوگوں کو جنہوں نے میری جلسہ سالانہ کی تقریر کے مطابق سالکین میں نام لکھوائے ہیں۔میں اس فکر میں ہوں کہ سالکین کے لئے ایسے قواعد وضع کئے جائیں کہ نہ تو یہ کام ایسا بو جھل ہو جائے کہ اپنی ذات میں ایک محکمہ بن جائے۔اور نہ ایسا ہو کہ صرف نام کے ہی سالکین رہیں اور کام کوئی نہ کریں۔میں ایسے قواعد سوچ رہا ہوں کہ بغیر کسی محکمہ پر خاص طور پر بوجھ ڈالنے کے دوست اپنی بھی اصلاح کریں اور دوسروں کی بھی اور امید کرتا ہوں کہ چند دن تک ان کو شائع کر سکوں گا۔لیکن میں ان لوگوں کے جنہوں نے نے نام پیش کئے ہیں پہلا کام یہ سپرد کرتا ہوں کہ وہ جماعت کی نگرانی کریں اور عام طور پر یہ کریں کہ جسے یقینی طور پر روپیہ کی آمد کی امید نہ ہو وہ کسی سے قرض نہ لے۔سرے یہ بھی نصیحت کریں کہ جس شخص کو یقینی طور پر آمدنی کی کہیں سے امید نہ ہو اسے لوگ قرض دیا بھی نہ کریں۔یہ بھی ایک نیکی ہے جس کا انہیں ثواب ملے گا۔اب تو یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایک شخص کا مکان دو روپیہ ماہوار آمد کا ہوتا ہے مگر وہ بہت سا روپیہ قرض لے کر بیس روپیہ ماہوار کرایہ میں اسے رہن رکھ دیتا ہے۔روپیہ دینے والا خوش ہوتا ہے کہ مجھے بہت سا روپیہ مل جائے گا حالانکہ وہ ہیں روپے صرف نام کے ہوتے ہیں، ادا ایک بھی ہیں