خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 49

سال ۱۹۳۴ء خطبات محمود ۴۹ میں جمع کرا دیتا ہوں مگر چونکہ دوسروں کی ذمہ داری بھی مجھے پر ہے اور ہماری جماعت کا کثیر بلکہ اگر میں غلطی نہیں کرتا تو ننانوے فیصدی حصہ ایسا ہے کہ اسے حق ہی نہیں ہوتا کہ قرض لے۔یا اگر حق ہوتا ہے تو جب روپیہ اسے ملتا ہے تو وہ اور جگہ خرچ کر دیتا ہے۔اس لئے مجھے یہ نصیحت کرنے کی ضرورت پیش آئی۔میں عام طور پر دیکھتا ہوں کہ اول تو قرض ایسی حالت میں لیا جاتا ہے جب قرض ادا کرنے کی اپنے اندر ہمت نہیں ہوتی۔اور اگر کہیں خرج سے روپیہ آنے کی امید میں قرض لیا جاتا ہے تو جب روپیہ آجاتا ہے تو اور جگہوں پر کر دیا جاتا ہے اور دل میں خیال کر لیا جاتا ہے کہ جب قرض خواہ مانگنے آئے گا تو ہم کہیں گے ہم کیا کریں، ہمارے پاس روپیہ نہیں ہے۔اور اگر زیادہ اصرار کرے گا تو کہہ دیں گے ہمارا مکان ہے میں ہزار اس کی لاگت ہے، یہ خرید لو اور اسی میں اپنا قرض وضع کرلو۔چاہے اُس وقت وہ پانچ ہزار روپیہ کا ہی ہو۔اب کون بیوقوف ہو گا جو دو ہزار روپیہ قرض وصول کرنے کے لئے اٹھارہ ہزار اور خرچ کرے۔یا بعض دفعہ مکان بناتے وقت زیادہ خرچ ہوتا ہے مگر بعد میں قیمتیں گر جاتی ہیں اس صورت میں مکان خریدنے والے کو گھاٹا بھی ہو سکتا ہے۔مگر مقروض سمجھتا ہے میں نے مکان پیش کر دیا ہے اسی جھگڑے میں ایک دو سال اور گزر جائیں گے حالانکہ یہ قرض دینے والے کا کام نہیں کہ وہ مکان خریدے یا نیچے بلکہ قرض لینے والے کا کام ہے کہ وہ جس طرح ہو قرض ادا کرے۔مکان بیچنا ہے تو خود بیچے اور جس قیمت پر بکتا ہے فروخت کر کے قرض ادا کرے۔غرض عدم ادائیگی کا نقص ایسا ہو گیا ہے کہ اس کی وجہ سے اب مجھے جرات ہی نہیں ہوتی کہ غریبوں کی مدد کے لئے قرض حسنہ کی تحریک کی جائے میں جانتا ہوں کہ اگر میں تحریک کروں تو کئی مخلص ایسے کھڑے ہو جائیں گے جو قرض دینے کے لئے تیار ہوں گے مگر آخر ساری ذمہ داری مجھے پر آجائے گی۔وہ کہیں گے آپ نے وعظ کیا تھا اور ہم نے روپیہ دے دیا اب روپیہ لینے والے دیتے نہیں اب آپ ہی دلوائیے۔کیونکہ قرض لینے والے ننانوے فیصدی میری تشریح کے مطابق ٹھگ ہوں گے اور گو وہ یہ بھی کہیں کہ ہماری نیت تھی کہ ہم روپیہ ادا کر دیں پھر بھی وہ الزام سے بری نہیں ہو سکتے۔کیا اگر کوئی عمارت بنانا چاہے اور اسے بیس ہزار روپیہ کی ضرورت ہو مگر اس کے پاس صرف دس ہزار ہو۔باقی دس ہزار کے متعلق ایک شخص اسے کسے کہ آپ عمارت شروع کریں، میں دس ہزار روپیہ دے دوں گا لیکن جب عمارت نامکمل صورت میں کھڑی ہو جائے اور وہ آکر شخص۔