خطبات محمود (جلد 15) — Page 532
خطبات محمود ۵۳۲ سال ۱۹۴۴ء جن ایام میں انہیں دورہ ہو وہ خیال رکھیں کہ کہیں وہ آپ کے پیچھے آکر نہ بیٹھ جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ جب آپ گفتگو فرماتے یا لیکچر دیتے تو اپنے ہاتھ کو رانوں کی طرف اس طرح لاتے جس طرح کوئی آہستہ سے ہاتھ مارتا ہے۔حضرت سیح موعود علیہ السلام جب اس طرح ہاتھ ہلاتے تو مولوی یار محمد صاحب محبت کے جوش میں فوراً کود کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچ جاتے اور جب کسی نے پوچھنا کہ مولوی صاحب یہ کیا تو وہ کہتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے اشارہ سے بلایا تھا۔تو جہاں محبت ہوتی ہے وہاں یونہی اشارے بنالئے جاتے ہیں۔کجا یہ کہ اللہ تعالی روزانہ بلائے اور بندہ کہے کہ ہم جمعۃ الوداع کے دن قضا عمری پڑھ لیں گے اور اس طرح خداتعالی کی زیارت حاصل ہو جائے گی۔پس یہ گو جمعتہ الوداع تو نہیں مگر مسلمان کا ہر جمعہ اپنے ساتھ برکات رکھتا ہے۔پھر نہ صرف یہ جمعہ کا دن ہے بلکہ رمضان کے مہینہ میں جمعہ کا دن ہے اور نہ صرف رمضان کے مہینے میں جمعہ کا دن ہے بلکہ ان برکتوں اور فضلوں والے ایام میں جمعہ کا دن ہے جسے حضرت مسیح موعود نے اپنے الہاموں کی بناء پر قائم کیا۔اور جس کے متعلق آپ فرماتے ہیں۔زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے۔غرض وہ جلسے کے دن جن کے متعلق خاص طور پر اللہ تعالی کی طرف سے برکات کا وعدہ کیا گیا ہے، پھر قادیان کا مقام جسے ارضِ حرم سے تشبیہ دی گئی ہے اور جمعہ کا دن جو خاص فضلوں کے نزول کا دن ہوتا ہے آج ہمیں میسر ہے۔پس ہمارے لئے یہ نہایت ہی بابرکت موقع ہے اور ا ہے اور ان برکات سے فائدہ اٹھانے کا طریق یہ ہے کہ ہم اپنے دلوں میں انابت اور تضرع پیدا کریں اور اعلیٰ مقاصد اپنے دل میں پیدا کر کے اللہ تعالٰی سے ان کے حصول کیلئے دعائیں کریں۔بہت لوگ دعائیں تو اللہ تعالی سے قبول کرالیتے ہیں مگر وہ اتنی چھوٹی اور اتنی معمولی اور حقیر باتوں پر مشتمل ہوتی ہیں کہ انہیں سن کر حیرت ہوتی ہے۔وہ معمولی معمولی باتوں کیلئے اللہ تعالی کے حضور گڑگڑاتے اور عجز و انکسار کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی مثال بالکل وہی ہوتی ہے جیسے کوئی بادشاہ کی ملاقات کو جائے مگر اپنا سارا وقت اس کے پاخانے غسل خانے اور باورچی خانے کے دیکھنے میں صرف کر دے اور بادشاہ سے ملاقات اور اس سے گفتگو کا وقت انہی حقیر باتوں میں ضائع کر کے واپس آجائے۔پس دعاؤں میں بہت بڑی احتیاط