خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 531 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 531

خطبات محمود ۵۳۱ سال ۱۲۳۴۔، پس یہ ہماری عید اور ہمارے لئے نہایت ہی خوشی اور مسرت کا دن ہے۔پھر یہ رمضان کا مہینہ ہے اور رمضان کے لحاظ سے یہ عید اور بھی زیادہ شاندار ہو جاتی ہے۔گو یہ وہ جمعہ تو نہیں جس کا نام لوگ جمعۃ الوداع رکھ کر اپنی ساری عمر کی نمازیں یا کم از کم ایک سال کی نمازیں خدا تعالی سے بخشوانا چاہتے ہیں۔مگر وہ دن تو جاہلوں کا دن ہے اور کوئی مومن جاہل نہیں ہوتا کیونکہ کوئی مومن ایک منٹ کیلئے بھی یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ وہ عبادت جو خدا تعالیٰ کی زیارت کے مترادف ہے، اسے سارا سال تو چھوڑے رکھے مگر ایک دن بجالا کر یہ سمجھ لے کہ سارے سال کی نمازیں ادا ہو گئیں۔اگر نماز ایک چٹی ہوتی، اگر نماز ایک سزا ہوتی اور اگر نماز ایک جرمانہ ہوتا تو ہم خیال کرلیتے کہ جتنا کم سے کم جرمانہ ادا کر کے اور جتنی کم سے کم سزا بھگت کر ہم اس مصیبت سے بچ سکتے ہیں، اتنا ہی کم جرمانہ ادا کرنا اور اتنی ہی کم سزا بھگتنی چاہیئے۔مگر جبکہ نماز خدا تعالیٰ کا ایک فضل اور انعام ہے اور جبکہ نماز زیارت ہے اپنے محبوب خدا کی تو کیا کوئی ایسا انسان ہو سکتا ہے کہ اسے اس کا محبوب ہلائے مگر وہ نہ جائے اور کہے کہ میں کسی خاص دن جاکر اس محبوب کا گلہ دور کردوں گا اور وہ پھر بھی اس کا محبوب ہی رہے۔محبوب کی طرف سے تو اگر ایک اشارہ بھی ہو جائے تو عاشق صادق اس کی تعمیل کئے بغیر نہیں رہ سکتا کجا یہ کہ محبوب اسے روز بلائے اور یہ گھر میں بیٹھا رہے۔گو مثال تو ایک پاگل کی ہے پھر ایسے پاگل کی جو آب فوت ہوچکا اور گو وہ ایک ایسے پاگل کی مثال ہے جو میرا استاد بھی تھا مگر بہرحال اس سے عشق کی حالت نہایت واضح ہو جاتی ہے۔ایک میرے استاد تھے جو سکول میں پڑھایا کرتے تھے بعد میں وہ نبوت کے مدعی بن گئے ان کا نام مولوی یار محمد صاحب تھا۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایسی محبت تھی کہ اس کے نتیجہ میں ہی ان پر جنون کا رنگ غالب آگیا ممکن ہے پہلے بھی ان کے دماغ میں کوئی نقص ہو مگر ہم نے تو یہی دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت بڑھتے بڑھتے انہیں جنون ہو گیا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر پیشگوئی کو اپنی طرف منسوب کرنے لگے۔پھر ان کا یہ جنون یہاں تک بڑھ گیا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قریب ہونے کی خواہش میں بعض دفعہ ایسی حرکات بھی کر بیٹھتے جو ناجائز اور نادرست ہوتیں۔مثلاً وہ نماز میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرنے کی کوشش کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی اس حالت کو دیکھ کر بعض آدمی مقرر کئے ہوئے تھے تاکہ